سچی کہانی نہیں ہے لیکن سچ کے قریب تر ہے

محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد پنجاب کا رخ کیا،

تو دریائےِ سندھ سے تھوڑا پہلے ہی آرام کی غرض سے، وہ کسی سایہ دار جگہ کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔۔

اچانک اُنکی نظر ایک بزرگ پر پڑی، جو ایک بہت بڑے سایہ دار درخت کے نیچے کسی کام میں مگن تھے۔۔

محمد بن قاسم حیران ہوا اور سوچا کہ اس سنسان ویرانے میں یہ بزرگ ضرور بہت بڑی ہستی ہیں، چنانچہ انہوں نے بھی اسی درخت کا رخ کیا، کیوں کہ وہ اس ہستی کو پہچانے بغیر آگے جانا فضول سمجھ رہے تھے۔وہ بزرگ کے پاس آئے، سلام کیا، مگر کوئ جواب نہ ملا۔

ہاتھ پکڑ کے بوسا دیا تو بزرگ نے اپنا ہاتھ محمد بن قاسم کے سر پہ رکھا اور بولے:بیٹا کتنے دن سے نیند نہیں کی تم نے۔۔؟؟

محمد بن قاسم نے کپکپاتے لبوں سے بولا:حضور 1ہفتے سے۔۔
بابا جی نے اپنے پاس پڑے چند تازہ پتے اٹھائے،اور مٹی کے برتن میں پیس دیئے،اور پانی ڈال کر 2گلاس پلا دیئے۔۔

محمد بن قاسم کو سکون آیا اور اس نے یہ چیز اپنے سارے لشکر کو پلانے کی فرمائش کر دی.۔۔

بزرگ نے سب کو پلایا۔۔
پینے کے بعد لشکر 5 دن اور 5 راتوں تک سویا رہا۔۔

جب محمد بن قاسم جاگا تو دیکھا کہ بزرگ بھی سو رہے ہیں،انہوں نے بزرگ کو جگایا اور بولے کہ:اگر آپ مجھے اس مشروب کا نام اور اپنا نام بتا دیں گے، تو میں یہ سندھ دھرتی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کے حوالے کر جاؤں گا۔۔۔۔


بزرگ لالچ میں پڑ گئے اور بولے:......بیٹا، جو آپ سب نے پیا ہے وہ "بھنگ" تھی،اور میرا نام "قائم علی شاہ" ہے۔۔۔۔

The Khyber Pakhtunkhwa Police has completed its recruitment process of the police constables for the year 2015

This is the second recruitment which has been made through NTS. The AIGP Establishment Najeeb-ur-Rehman Buqvi gave a presentation to the Inspector General of Police, Khyber Pakhutnkhwa Nasir Khan Durrani about the process and procedure adopted during the recruitment.

The AIGP Establishment informed that a total of 54,102 persons applied for the posts of police constables against 1605 vacancies in the Khyber Pakhtunkhwa Police. Out of these only 16,008 candidates could qualify the physical measurement standards and the physical endurance test. Those who qualified the physical test appeared in the written examination conducted by the accredited independent body, the National Testing Service (NTS). Only 2,990 candidates successfully passed the test carried by NTS. The pass percentage was 18.7 percent.

After passing the NTS examination, the candidates underwent psychological examination which was conducted by a board of psychological experts for determining their suitability for joining the profession of police. The psychological board declared 79 candidates as unfit for the police service.

A total of 1605 candidates have now been enlisted as police constables in all the districts of Khyber Pakhtunkhwa after their medical tests and verification of antecedents. The ratio of enlisted constables to the applicants comes to 2.96 percent meaning thereby that out of 100 candidates only 3 could make it to the final merit list.

The range wise break-up of the recruitment is as follows: out of the 1605 enlisted constables, 166 have been recruited in Peshawar, 358 in Mardan Region, 166 in Kohat Region, 143 in Bannu Region, 98 in DI Khan Region, 155 in Hazara Region and 519 in Malakand Region. Moreover, 36 Special Police Officers (SPOs) have also qualified and have been enlisted as police constables.

The education wise analysis of the successful candidates reveals that 87 percent have either college or university degrees and only 13 percent are matriculates, which was the minimum qualification requirement. A further analysis bears out the fact that 128 of these police constables have postgraduate degrees, 390 have graduations, 879 have passed FA/FSc while only 208 are matriculates.

It is pertinent to mention that it was for the first time in the history of country that any government department had taken the initiative to outsource the recruitment to be conducted through an independent professional agency. This has induced fairness, transparency, credibility and meritocracy in the KP police recruitment process thereby raising the public confidence. Further, it has led to enlistment of highly qualified, talented and promising individuals out of the available lot who are expected to perform their duties with honesty and integrity.

Since the quality of enlisted constables is extraordinary, therefore in order to give them an incentive for rising to higher posts in the field, it has been decided that 25 percent posts in each rank up to the rank of Deputy Superintendent of Police will be reserved for Fast Track Promotion to be filled through Competitive Examination conducted by the Public Service Commission.

راہ ونجے دل

راہ ونجے ھا دل اناں لگدیاں توں

انجے سکھ اپنڑاں برباد  ناکر


اگے اندر اچ درد ھزاراں ھن


تو صدمے ھور آباد ناکر


اتھے پیار پننڑ تو نئیں ملدا


نا ترلے پا فریاد ناکر

او جو خوش اے غیر دی محفل وچ

تو وی بھل ونج گُزریاں یاد نا کر

پانامہ لیکس

آج سے ایک سال قبل ایک نامعلوم شخص نے جرمنی کے سب سے بڑے اخبار زیدوئچے سائتونگ سے رابطہ کیا اور اخبار کو موساک فونسیکا کی اندرونی دستاویزات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
اخبار نے اس پر رضامندی ظاہر کی اور آنے والے مہینوں میں اس نامعلوم ذریعے کی جانب سے بھجوائی جانے والی دستاویزات کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور اس سارے ڈیٹا کا حجم 2.6 ٹیرا بائیٹ تک پہنچ گیا۔

یہ سب کچھ فراہم کرنے والے ذریعے نے اس کے بدلے میں کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا بلکہ سکیورٹی کے بارے میں چند یقین دہانیاں مانگیں۔

تحقیق کی ابتدا

زیدوئچے سائتونگ نے سارے ڈیٹا کا جائزہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس یا ICIJ کی مدد سے لینے کا فیصلہ کیا جو اس سے قبل اسی اخبار کے ساتھ آف شور لیکس، لکس لیکس اور سوئس لیکس پر کام کر چکا تھا۔
پاناما پیپرز عالمی سطح پر اس نوعیت کے تعاون کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔

ان پیپرز کے لیے کی گئی تحقیقات میں گذشتہ 12 مہینے کے دوران 100 میڈیا تنظیموں سے اور 80 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 400 کے قریب صحافیوں نے حصہ لیا۔

ان میں بی بی سی کی ٹیم، برطانوی اخبار گارڈین، فرانسیسی اخبار لا موند، ارجنٹائن کے اخبار لا نیسیون شامل ہیں۔

اس تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم کا پہلا اجلاس واشنگٹن، میونخ، لندن اور للہیمر میں ہوا جس میں تحقیق کے دائرۂ کار کا تعین کیا گیا۔

ڈیٹا کا حجم

پاناما پیپرز کے ڈیٹا کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ وکی لیکس کی سفارتی کیبلز، آف شور لیکس، لکس لیکس، سوئس لیکس کے سارے ڈیٹا سے زیادہ ہے جس میں ای میلز، پی ڈی ایف فائلیں، تصاویر اور موساک فونسیکا کے اندرونی ڈیٹا بیس کا حصہ بھی شامل ہے جو 1970 سے 2016 تک پھیلا ہوا ہے۔

دو سال قبل ایک اور ذریعے نے موساک فونسیکا کا ڈیٹا فروخت کیا تھا مگر وہ حجم میں بہت چھوٹا تھا مگر پاناما پیپرز کے ذریعے افشا کی جانے والی دستاویزات میں 214000 کمپنیوں کے بارے میں معلومات تھیں۔

ان معلومات کے نتیجے میں تفتیش کاروں نے 100 کے قریب افراد کے دفاتر پر چھاپے مارے جن میں کومرز بینک بھی شامل تھا۔

اس کے نتیجے میں کومرز بینک، ایچ ایس ایچ اور ہائپورنسبینک نے دو کروڑ یوروز کا جرمانہ ادا کیا۔

تحقیق کا طریقۂ کار

موساک فونسیکا نے ہر شیل کمپنی کے لیے ایک فولڈر بنایا ہوا تھا جس میں کمپنی کی ای میلز، رابطے، بات چیت، ٹھیکے اور ان کی سکین شدہ دستاویزات شامل تھیں۔

سب سے پہلے تحقیق کاروں نے سارے ڈیٹا کو بہترین کارکردگی والے کمپیوٹروں پر چڑھایا جس کےنتیجے میں فائلوں کو پڑھنے میں آسانی ملی اور انھیں ترتیب دیا گیا جس کے نتیجے میں صحافیوں کو اس سارے ڈیٹا کو گوگل کی سرچ کی طرح کھنگالنے میں مدد ملی۔

چند منٹوں میں سارے ڈیٹا کو سدھارنے کے بعد اس پر تحقیق کا کام شروع ہوا جس میں ہر سامنے آنے والے نام کے بارے میں سوالات سامنے لائے گئے کہ ان کمپنیوں میں اس فرد کا کیا کردار ہے، پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ کیا سٹرکچر کیا قانونی ہے؟

ڈانڑے

کپڑے سک گئے نی

آ ڈھولا کنڑک کپاں
ساڈے دانڑے مک گئے نی

پانامہ پیپر اور دنیا

پانامہ لیکس - مختلف ممالک میں کیا کچھ ہو رہا ھے

ارجنٹینا
-----------
پانامہ لیکس کے مطابق ارجنٹائن کا صدر باہامس میں ایک ٹریڈنگ کمپنی کا مالک ھے جو کہ اس نے اپنے سابق مئیر کے عہدے کے دوران ڈسکلوز نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ ایک کمپبی کا نان ایکیویٹی ڈائریکٹر بھی ھے۔ 1 اپریل 2016 کو وفاقی پراسیکیوٹر نے صدر کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا اور متعلقہ جج کو درخواست کی کہ صدر کے اس مبینہ طور پر مجرمانہ فعل کی انکوائری کی فائل شروع کی جائے۔

آرمینیا
----------
آرمینیا کی ایک سب سے بڑی ایجنسی کا سربراہ جو کہ میجر جنرل بھی ھے، اس کا نام بھی پانامہ لیکس میں آیا ھے۔ 8 اپریل کو آرمینین ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل اینٹی کرپشن سینٹر نے مقدمہ دائر کردیا اور تحقیقات کا آغاز ہوگیا۔

آسٹریلیا
-----------
پانامہ لیکس کے بعد آسٹریلین ٹیکسیشن آفس نے ان تمام 800 آسٹریلینز کے خلاف تحقیقات کا اعلان کردیا جن کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں۔ اس مقصد کیلئے مقدمات " سیریس فنانشل کرائمز ٹاسک فورس" کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔

برازیل
-----------
برازیل کی 7 سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں جبکہ برازیل کے میڈیا اور دوسری تحقیقاتی ایجنسیوں نے کافی عرصہ پہلے ہی یہ الزامات عائد کرکے تحقیقات شروع کررکھی تھیں جو کہ سیاسی انفلوئنس کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ پچھلے دنوں ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ سڑکوں پر نکلے اور پورا دارلحکومت سیل کردیا۔ اب تحقیقات کو سرعت کے ساتھ کرنے کا فیصلہ ہوگیا ھے۔

کینیڈا
----------
کینیڈا کے نومنتخب، نوجوان وزیراعظم نے پانامہ لیکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ھے کہ جیسا کہ کینیڈین شہری اپنے لیڈروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ شفاف طریقے سے معاملات چلائیں گے، وہ بھی اسی توقع پر پورا اترتے ہیں اور اسی لئے ان کا نام پانامہ لیکس میں نہیں آیا۔ لیکن اس کے باوجود رائل بنک آف کینیڈا نے ایک ٹیم سیٹ اپ کردی ھے جو منی لانڈینگ اور متعلقہ چیزوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرے گی۔

کولمبیا
----------
کولمبیا پانامہ کو پہلے ہی بلیک لسٹ کرچکا ھے اور اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے انوسٹی گیشن بھی لانچ کردی ھے۔

یورپی یونین
--------------
چونکہ اہم یورپی رہنماؤں کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں، یورپی یونین نے ازسر نو ٹیکس ہیون کے معاملات کا جائزہ لینے اور اس کی روک تھام کرنے کیلئے قانون سازی کو اعلان کردیا ھے۔

فرانس
-----------
فرانسیسی صدر اور پراسیکیوٹر جنرل نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ھے کہ وہ ٹیکس بچانے والوں کو کٹہرے میں لائیں گے۔

آئس لینڈ
----------
وزیراعظم اپنا نام آنے پر استعفی دے چکا ہے۔

انڈونیشیا
------------
فنانس منسٹر نے پانامہ لیکس کے ریلیز ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ایک آرڈر جاری کردیا جس میں ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو تمام معاملات کی تحقیقات کرکے ایکشن لینے کا کہا گیا۔

اسرائیل
------------
کچھ اہم اسرائیلیوں کا نام بھی پانامہ لیکس میں آیا جس کے بعد انہوں نے تمام دستاویزات عوام کے سامنے پیش کردیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح انہوں نے آف شور کمپنیوں کے بارے میں اپنے اثاثہ جات کی تفصیل میں پہلے سے ہی بتا دیا تھا اور نہ صرف یہ، بلکہ آف شور کمپنیوں سے حاصل ہونے والے منافع پر اسرائیل میں ٹیکس بھی جمع کرواتے رہے تھے۔

اٹلی
---------
اٹلی کے سابق وزیراعظم کا نام آیا ھے جسے کئی سال پہلے ہی وہاں کی عدالت کئی سال کی سزا سنا کر جیل بھیج چکی ھے۔ اس کے علاوہ اٹلی نے مزید تحقیقات کا اعلان بھی کیا ھے۔

میکسیکو
----------
ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے آفر دی ھے کہ جن جن کے نام آئے ہیں، وہ اگر بچنا چاہتے ہیں تو آف شور کمپنیوں کے قائم ہونے سے اب تک ہونے والے منافع پر ٹیکس دے کر بچ سکتے ہیں۔

یہ تو تھے چند ممالک جہاں پانامہ لیکس کے بعد فوری ایکشن لیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی ممالک میں منسٹر لیول کے لوگ مستعفی ہوچکے ہیں۔

اب آجائیں پاکستان کی طرف، یہاں پانامہ لیکس کے بعد نوازشریف اور اس کے حواریوں نے بجائے اپنا دفاع کرنے کے، شوکت خانم یسپتال اور عمران خان کو اس کا ذمے دار ٹھہرانا شروع کردیا۔

نوازشریف پچھلے ایک ہفتے سے علاج کے نام پر لندن بھاگ چکا ھے جہاں اس کی کوشش ھے کہ کسی طریقے سے اربوں پاؤنڈ پر مشتمل اس کی پراپرٹی کو اپنی فیملی کے نام سے کلئیر کیا جائے۔ کہا جارہا ھے کہ اگلے مزید کئی ہفتوں تک نوازشریف کی وطن واپسی کا کوئی چانس نہیں۔

ابھی تک انکوائری رپورٹ تو دور، انکوائری کمیشن تک قائم نہیں ہوا۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار جو کہ خود اپنی دولت بیرون ملک رکھتا ھے، وہ کیا کسی کو تحقیقات کیلئے کہے گا؟

شرم آتی ھے جب ایک طرف دنیا ایسے معاملات پر فوری ردعمل دیتی ھے اور دوسری طرف پاکستانیوں کے ماتھے پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ہماری پوری قوم چور اور کرپٹ ھے اور اسے پانامہ لیکس جیسی فضول رپورٹس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ ۔
بشکریہ بابا کوڈا فیس بک پیج

پانامہ پیپر نواز شریف

ایک ریسٹورنٹ میں مٹن کڑاہی بن رہی تھی۔ ایک شخص آیا اور کڑاہی میں جھانک کر پکانے والے سے کہا کہ ابھی گوشت گلنے میں 15 منٹ لگیں گے۔
بھئی کڑاہی کا آرڈر دیا کسی نے، پکانے والا کوئی،
تم نے اپنی بہن کا رشتہ دینا ھے جو مشورہ دے رھے ہو؟
ایک آدمی صبح سویرے سڑک پر اپنی موٹرسائکل کو ککیں مار رہا تھا لیکن وہ سٹارٹ نہیں ہوری تھی۔ ایک شخص آیا اور اسے کہا کہ اسے زمین پر لٹاؤ، سٹارٹ ہوجائے گی۔
بھئی موٹرسائکل ہنڈا والوں کی، چلانے والا کوئی،
تم نے اپنی بہن کا رشتہ دینا ھے جو اتنے ہلکان ہو رہے ہو؟
ایک شخص حجام سے کٹنگ کروا رہا تھا۔ پیچھے بیٹھے شخص نے کہا کہ گردن سے بال ابھی مزید چھوٹے ہونے چاہیئں۔
بھئی بال کاٹنے والا کوئی، کٹوانے والا کوئی اور،
تم نے اپنی بہن کا رشتہ دینے کو اس کے بال ٹھیک کروا رہے ہو؟
ایک بنک کے باہر بل جمع کروانے والوں کی لائن لگی تھی۔ ایک شخص آیا اور ان سے لائن سیدھی کرنے کو کہنے لگا۔
بھئی بل جمع کروانے والے لوگ کوئی اور، بل لینے والا بنک کوئی اور،
تم نے اپنی بہن کا رشتہ دینا ھے جو لائنیں سیدھی کروا رھے ہو؟
دو دن پہلے لندن میں جمائمہ کی رہائش گاہ کے باہر ن لیگ کے سپورٹرز نے عمران خان کے خلاف احتجاج کیا۔
بھئی پانامہ لیکس میں نام آیا شریف فیملی کا، پانامہ پیپرز لیک کئے انٹرنیشنل صحافیوں نے،
پٹواریوں نے عمران خان کو اپنی بہن کا رشتہ دینا ھے جو اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں؟؟؟؟
بشکریہ باباکوڈا فیس بک پیج

پانامہ پیپر


بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

پاناما پیپرز کیا ہیں؟


فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔

ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔

ان پیپرز میں کن کا ذکر ہے؟


ان دستاویزات میں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت کے نام ہیں بشمول ان آمروں کے جن پر ملک کی دولت لوٹنے کے الزامات ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر سیاستدانوں کے 60 کے قریب رشتہ دار اور رفقا کے نام بھی آئے ہیں۔

فائلز میں روسی صدر پوتن کے قریبی رفقا، چینی صدر کے بہنوئی، یوکرین کے صدر، ارجنٹینا کے صدر، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے آنجہانی والد، اور وزیر اعظم پاکستان کے چار میں سے تین بچوں کا ذکر ہے۔

ٹیکس چوری کیسے ہوتی ہے؟


اگرچہ ٹیکس سے بچنے کے قانونی طریقے ہیں لیکن زیادہ تر جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ دولت کے حقیقی مالک کی شناخت چھپانا، دولت کیسے حاصل کی اور اس دولت پر ٹیکس نہ دینا۔

اہم الزامات میں سے چند یہ ہیں کہ شیل کمپنیاں بنائی جاتی ہیں جو کہ ظاہری طور پر تو قانونی ہوتی ہیں لیکن یہ ایک کھوکھلی کمپنی ہوتی ہے۔ یہ کمپنیاں دولت کے مالک کی شناخت چھپاتی ہیں۔

ملوث افراد کیا کہتے ہیں؟


موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بے داغ طریقے سے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔

روسی صدر ویلادیمیر پوتن کے ترجمان دیمیتری پیسکوو نے کہا ہے ’پوتن فوبیا اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں روس یا اس کے کام یا روسی کامیابیوں پر بات کرنے کی ممانعت ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ جب کہنے کو کچھ نہ ہو تو کچھ گھڑ لیا جائے۔ یہ واضح ہے۔‘

پاناما پیپرز کس نے لِیک کیے؟


ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔

یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔

بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔

یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔

ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔
ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔


ان پیپرز میں کن کا ذکر ہے؟

ان  میں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت کے نام ہیں بشمول ان آمروں کے جن پر ملک کی دولت لوٹنے کے الزامات ہیں۔
ان دستاویزات کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر سیاستدانوں کے 60 کے قریب رشتہ دار اور رفقا کے نام بھی آئے ہیں۔
فائلز میں روسی صدر پوتن کے قریبی رفقا، چینی صدر کے بہنوئی، یوکرین کے صدر، ارجنٹینا کے صدر، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے آنجہانی والد، اور وزیر اعظم پاکستان کے چار میں سے تین بچوں کا ذکر ہے۔
ٹیکس چوری کیسے ہوتی ہے؟

اگرچہ ٹیکس سے بچنے کے قانونی طریقے ہیں لیکن زیادہ تر جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ دولت کے حقیقی مالک کی شناخت چھپانا، دولت کیسے حاصل کی اور اس دولت پر ٹیکس نہ دینا۔
اہم الزامات میں سے چند یہ ہیں کہ شیل کمپنیاں بنائی جاتی ہیں جو کہ ظاہری طور پر تو قانونی ہوتی ہیں لیکن یہ ایک کھوکھلی کمپنی ہوتی ہے۔ یہ کمپنیاں دولت کے مالک کی شناخت چھپاتی ہیں۔
ملوث افراد کیا کہتے ہیں؟

موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بے داغ طریقے سے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔
روسی صدر ویلادیمیر پوتن کے ترجمان دیمیتری پیسکوو نے کہا ہے ’پوتن فوبیا اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں روس یا اس کے کام یا روسی کامیابیوں پر بات کرنے کی ممانعت ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ جب کہنے کو کچھ نہ ہو تو کچھ گھڑ لیا جائے۔ یہ واضح ہے۔‘
پاناما پیپرز کس نے لِیک کیے؟

ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔
یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔
بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔
یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔
ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

Gas Centrifuge Maseen

1972 میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام منیر احمد خان کی سربراہی میں شروع ہوا اور پہلا کام پاکستانی سائندانوں نے ایٹمی ایندھن کی تیاری کیلئے کارآمد تابکار مواد بنانے والی مشین Gas centrifuge پر تحقیق کا شروع کیا.
یہ مشین مدھانی کے اصول پہ کام کرتی ہے اور جیسے مدھانی دودھ میں سے مکھن نکالتی ہے. Gas Centrifuge تابکار مواد کو انتہاہی تیزی سے گول سلنڈر کے اندر گھما کر, کار آمد اور غیر کارآمد ایٹموں کو الگ کرتی ہے. مشین جتنا تیز گھومے گی اتنا اچھا کام کرے گی.

اچھی بات یہ ہوئ کہ ایک پاکستانی سائنسدان جی . اے . عالم نے اپنے طور پہ 1975 میں Gas Centrifuge بنا کہ تیس ہزار چکر فی منٹ پہ گھمائ. موصوف نے پہلے کبھی یہ مشین نہ دیکھی تھی , صرف اپنی کتابی معومات پہ اتنی پیچیدہ مشین بنا کہ کامیابی سے چلائ . اس معرکہ سے سال پہلے 1974 میں خلیل قریشی نامی پاکستانی ریاضی دان نے Gas Centrifuge کے مکمل ریاضی کلیہ کا حساب لگا کر پاکستان اٹمک انرجی کمیشن کو دیا تھا 1975 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں شمولیت اختیار کی.

اسی سال انھوں نے جی. اے . عالم سے ملاقات کی اور ان کی بنائ ہوئ Gas Centrifuge دیکھی.
پاکستان آنے سے پہلے ڈاکٹر عبداقدیر نے ہالینڈ کی کمپنی URENCO میں کام کیا تھا. URENCO کمپنی آج بھی موجود ہے اور دنیا بھر کے ایٹمی بجلی گھروں کو اپنے Gas Centrifuge میں ایٹمی ایندھن بنا کر فراہم کرتی ہے . ڈاکٹر عبدالقدیر نے اُن کی Gas Centrifuge پہ مزید تحقیق کر کہ کارکردگی مزید بہتر کی تھی اور یہی تجربہ لے کر پاکستان آئے.

جی- اے - عالم کا ڈیزائن کام تو کرتا تھا مگر فی منٹ 30 ہزار چکر کم تھے اور اس رفتار سے ایٹمی ایندھن بنانے میں بہت طویل عرصہ لگنا تھا .
ساتھ ہی ریاضی دان خلیل قریشی کی کیلکولیشن راہنمائ کے لیئے موجود تھیں اور اسے دیکھتے ہوئے حساب لگایا گیا کہ Gas Centrifuge کو کم از کم 6o ہزار RPM پہ گھمانا ہوگا.

تجربات کیئے گئے اور جب بھی Gas Centrifuge مشین کے اندرونی پنکھوں کو زیادہ تیز گھمایا جاتا, مشین ٹوٹ پھوٹ جاتی. جیسے کچی روٹی کو تیز گھمایا جائے تو پہلے اس کی گولائ بڑھتی ہے اور پھر ٹوٹ پھوٹ کہ بکھر جاتی ہے. 60 ہزار چکر فی منٹ پہ پاکستانی Gas Centrifuge کے اندرونی پنکھوں کا یہی حال ہوتا.

پاکستان کے تمام بڑے سائنسدان سر جوڑ کہ بیٹھے اور مسئلہ کا حل تلاش کیا. کئی طرح کے حساب لگائے گئے اور سب اس بات پہ متفق ہوئے کہ المونیم دھات کا جو مرکب Alloy پنکھے بنانے میں استعمال ہورہا ہے وہ کمزور ہے اور نیا مرکب.Alloy بنانا ہوگا.
کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد ایک نیا المونیم مرکب بنایا گیا جو حساب کے مطابق پنکھے کی شکل میں ڈھال کر ایک منٹ میں 60 ہزار بار گول گھمایا جائے تو نھیں ٹوٹے گا.

نئی Gas Centrifuge بنائ گئ جس کےاندر کے پنکھے اس نئے المونیم مرکب سے بنائے گئے اور جب تجرباتی طور پہ مشین چلائ گئی تو کچھ دنوں تک تو کچھ نہ ہوا, مگر کچھ دن مسلسل چلنے کے بعد یہ مشین بھی پہلے والے ڈیزائن کی طرح زور برداشت نہ کر پائ اور ٹوٹ پھوٹ گئی.

سب سائنسدان حیران رہ گئے, حساب کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہ تھا.

ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو خود دھاتوں کے ماہر Metallurgist تھے وہ بھی حیران رہ گئے کہ اتنی مظبوط دھات کیسے ٹوٹ گئ اور سائنسدانوں کا ہنگامی اجلاس بلایا. مسئلہ وقت کا تھا. بھارت 1974 میں ایٹمی دھماکے کر چکا تھا اور اس کے سال بعد کوشش کے باوجود ہماری ایٹمی ایندھن بنانے والی Gas Centrifuge کو مسائل درپیش تھے. مسئلہ جلد حل کرنے والا تھا. اجلاس میں پاکستانی ریاضی دان, دھاتوں کے ماہر اور ایٹمی سائنسدان سب شریک تھے اور سب نے مشین کے نقشے, کیلکولیشن ,دھاتی مرکب, ہر چیز کا جائزہ لیا مگر مسئلہ کا حل سمجھ نہ آیا. اجلاس میں موجود چند افراد نے ایک عجیب بات کہ ڈالی. پہلے مثال دی کہ جس طرح لا علاج مریض کو جب ڈاکٹر کے پاس سے دوائ نھیں ملتی تو وہ, حکیم,نجومی,عامل, کسی کے پاس بھی جانے سے گریز نھیں کرتا, اس امید پہ کہ شاید کہیں سے حل نکل آئے. چونکہ اس وقت ہمارے پاس بھی اس مسئلہ کا حل موجود نھیں. نکال تو لیں گے مگر وقت لگے گا اور وقت ہمارے پاس ہے نھیں," کوئ پتہ نھیں کب بھارت ایٹم بم بنا کر ہمارے پہ برسا رہا ہو. "😁
نیا اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہیں. ہمیں گجرانوالہ کے ایک لوہار کا پتہ ہے جو جدی پشتی لوہار ہے اور دھات کے ہر کام میں ماہر ہے, ڈھلائ, خراد یا دھات کا کوئ بھی کام ہو اس لوہار سے ماہر بندہ ہم نے نھیں دیکھا. چلتے ہیں اس کے پاس, شاید وہ کوئ حل بتا دے ؟
کچھ تزبزب کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ رازداری رکھتے ہوئے ڈاکٹر قدیر اور چند اور سائنسدان خود لوہار کے پاس جائیں گے .
اگلے دن ڈاکٹر عبدالقدیر چند اور ساتھیوں کو لے کر گجرانوالہ پہنچے. پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی گاڑی ایک پرانی سی ورکشاپ کے سامنے رکی. اندر ایک پچاس پچپن سال کا لوہار اپنی بھٹی کے سامنے بیٹھا گرم دھات کے ٹکڑے پہ ہتھوڑے چلا رہا تھا.
ڈاکٹر عبدالقدیر ساتھیوں کے ہمراہ اندر گئے اور لوہار کا کام ختم ہونے کا انتظار کیا. جب لوہار فارغ ہوا تو پہلا سوال کیا " صاحب کیا درانتیاں بنوانے آئے ہو؟" فصلوں کی کٹائ ہونے والی ہے آج کل ہم درانتیاں خوب بیچ رہے ہیں. ڈاکٹر قدیر نے اپنا تعارف کرایا جو اسے کچھ سمجھ نہ آیا, نہ تو اسے اٹامک انرجی کمیشن کا پتہ تھا کہ کیا چیز ہےاور نہ ہی ایٹمی پروگرام کا. کہنے لگا , صاحب مسئلہ بتاؤ, بس اتنی مجھے سمجھ آئ کہ آپ کوئ مشین بنانا چاہتے ہیں.
ڈاکٹر قدیر نے آسان الفاظ میں اسے سمجھایا کہ ہم ایک پنکھا بنانا چاہتے ہیں, جو ہلکا ہو اور تیز گھومے, لوہار نے پوچھا, "جیسا کچھ گاڑیوں کے انجن میں لگا ہوتا ہے"؟ وہ میں نے ایک گاہک کے لیئے بنائے تھے, ڈھلائ بھی خود کی تھی اور دھات بھی خود تیار کی تھی اور انجن میں لگائے بھی تھے, میرا پنکھا آج بھی چلتا ہے. ڈاکٹر قدیر سمجھ گئے کہ Turbo Charger کی بات کر رہا ہے, جس میں پنکھا لگتا ہے جو منٹ میں ایک لاکھ بار گھومتا ہے مگر چند منٹوں کیلیئے. Gas Centrifuge کے پنکھے اسی رفتار پہ کئی مہینے مسلسل گھومتے ہیں.
بہر حال ڈاکٹر قدیر کو سمجھ آگئی کہ بندہ کام کا ہے اور ملتا جلتا تجربہ بھی رکھتا ہے.
لوہار نے مزید تفصیل پوچھی جو اسے بتائ گئی. لوہار تھوڑا,سوچ کہ بولا کہ مجھے اپنی بھٹی پہ لے جاؤ جہاں آپ پنکھا بناتے ہو, مسئلہ میں وہاں سمجھوں گا اور امید ہے حل بھی بتا دوں گا. لوہار کو اسی دن اٹامک انرجی کمیشن کی ورکشاپ لایا گیا جدھر Foundry تھی اور دھات پگھلا کر سانچوں میں ڈھالنے کا کام ہوتا تھا.

لوہار نے کہا اسے پہلے بنائے گئے پنکھے دکھائے جائیں. ایک نمونہ اسے دیا گیا. لوہار نے نمونے کو غور سے دیکھا پھر ہتھوڑی سے ہلکا سا ٹھوکا اور آواز سنی, پھر کئی بار ایسا کیا. اور ہلکا سا مسکرایا. بولا, صاحب مسئلہ مجھے سمجھ آگیا, اب آپ میرے سامنے ایک پنکھے کی اسی طرح سانچے میں ڈھلائ کریں جیسے آپ کرتے ہیں. شام کا وقت ہو چکا تھا اور عملہ کو اپنے اپنے گھروں کو جانا تھا مگر اس دلچسپ صورتحال کو دیکھنے عملہ رک گیا اور ورکشاپ میں ایک چھوٹا سا ہجوم لگ گیا, جس میں نئے انجینیئر بھی شامل تھے اور پرانے بھی.
دھاتی مرکب کو بھٹی میں ڈال کر پگھلایا گیا اور لوہار کے سامنے سانچے میں ڈالا گیا. لوہار کھڑا دیکھتا رہا, پھر بولا, صاحب مسئلہ یہ ہے کہ آپ سانچے میں دھات بہت آہستہ ڈال رہے ہو, ہو یہ رہا ہے کہ سانچے میں پہلے جانے والی پگھلی دھات ٹھنڈی ہو جا رہی ہے اور پیچھے آنے والی نسبتاً گرم دھات اس کے ساتھ جُڑ نھیں پا رہی. اور آپ کا پنکھا اسی لیئے کمزور بن رہا ہے, اس کی مثال ایسی ہے کہ مٹی کا برتن بناتے وقت کمہار گیلی مٹی اور خشک مٹی کو ملا کر برتن بنائے. مٹی آپس میں ٹھیک نہ جڑ پائے گی اور برتن کمزور بنے گا. پھر لوہار نے کہا, آپ سانچہ میں ڈھلائ تیز کرو, مسئلہ حل ہو جائے گا, پنکھے کی "ٹن کی آواز" سن کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کا اندرونی ڈھانچہ (crystal structure ) درست نھیں. پگھلی دھات سانچہ میں تیزی سے ڈالو, تمام دھات ایک درجہ حرارت پہ ہوگی اور ساتھ ٹھنڈی ہو کہ آپس میں مضبوط جڑے گی.
ڈاکٹر عبدالقدیر اور وہاں موجود تمام انجنئر لوہار کا طریقہ کار اور مہارت دیکھ کر حیران رہ گئے.
اس رات لوہار کو مناسب معاوضہ دے کر واپس اس کے گھر چھوڑ دیا گیا.
اگلے دن Flow Rate کا دوبارہ سے حساب لگایا گیا اور جیسا لوہار نے کہا تھا, اس کیکولیشن میں غلطیاں پائ گئیں.
دھات کی ڈھلائی کی رفتار کا نئے سرے سے تعین کیا گیا اور پھر تیز ڈھلائ سے بنے پنکھے جب چلائے گئے تو پہلے 60 ہزار چکر فی منٹ پہ کئی دن گھمائے گئے, پھر مشین سے نکال کہ لیبارٹری میں جانچے گئے اور پنکھے بہترین شکل میں تھے اور کسی قسم کے نقصان یا ٹوٹ پھوٹ کے شواہد نہ ملے.
ڈاکٹر عبدالقدیر نے پنکھے کی مضبوطی دیکھتے ہوئے مشین کی رفتار اور تیز کرنے کا فیصلہ کیا اور پنکھے 80 ہزار چکر فی منٹ پہ گھمائے گئے. پھر لیبارٹری میں تجزیہ ہوا اور 80 ہزار RPM پہ بھی پنکھے بغیر نقصان کے چلتے رہے. اور یوں پاکستان کی پہلی Gas Centrifuge کا حتمی نقشہ بنا کر بڑے پیمانے پہ پیداوار شروع ہوئی. اس مشین کا سرکاری نام Pakistan -1 یا P-1 تھا مگر اٹامک انرجی کمیشن کے چند نوجوان انجنئروں نے لوہار کی یاد میں اس مشین کو " بابے کی مشین " کہا.
ایک ہنر مند کے تجربہ نے مشین کی تیاری میں کئی مہینے کا وقت بچا دیا.
سن 1978 میں پاکستان کا ایٹمی ایندھن بنانے کا کارخانہ مکمل اور بڑے پیمانے پہ کام کرنا شروع ہو گیا, اور قطار در قطار, ہزاروِ کی تعداد میں کھڑی "بابے کی مشینیں" افزودہ یورانیم اگلنے لگیں.
اس پاکستانی Gas Centrifuge کے ڈیزائن میں بعد کے سالوں میں مزید بہتری لا کہ رفتار اور بڑھائ گئی اور آج کی P-4 Gas Centrifuge دو لاکھ چکر فی منٹ پہ گھومتے ہیں.

پاکستان کے تجربہ کار ہنرمندوں کو اہم دفاعی منصوبوں میں شامل کر ان کے جدی پشتی علم سے مستفیض ہونے کی روایت جاری رہی.
مائع ایندھن سے چلنے والے غوری میزائل بنانے کے بعد جب ٹھوس ایندھن والے شاھین میزائل بنانے کی ضرورت پڑی تو بھی یہی فیصلہ کیا گیا کہ نئے سرے سے تحقیق کے بجائے, مختلف پرزے بنابے میں عوام میں موجود تجربہ کار مستری, لوہار, ویلڈر اور دیگر کاریگروں سے مدد لی جائے.

اس حکمت عملی کی وجہ سے شاھین میزائل انتہائ کم وقت اور کم لاگت میں بنا....!!!!!