٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اپنی مصیبت یا مصائب اہل بیت کو یاد کرکے ماتم کرنا یعنی ہائے ہائے، واویلا کرنا، چہرے یا سینے پر طمانچے مارنا، کپڑے پھاڑنا، بدن کو زخمی کرنا، نوحہ و جزع فزع کرنا، یہ باتیں خلاف صبر اور ناجائز و حرام ہیں۔ جب خود بخود دل پر رقت طاری ہوکر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور گریہ آجائے تو یہ رونا نہ صرف جائز بلکہ موجب رحمت و ثواب ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں (سورۃ البقرہ آیت 154)
ماتم تو ہے ہی حرام، تین دن سے زیادہ
سوگ کی بھی اجازت نہیں ہے
امام حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
کسی مسلمان کو کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا سوائے عورت کے کہ وہ عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی موت پر سوگ کرسکتی ہے
(من لایحضرہ الفقیہ ج 1)
اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو ہر سال حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سوگ مناتے ہیں اور دس دن سینہ کوبی کرتی ہیں۔ چارپائی پر نہیں سوتے، اچھا لباس نہیں پہنتے اور کالے کپڑے پہنتے ہیں۔ ہاں ایصال ثواب کرنا ان کی یاد منانا اور ذکر اذکار جائز ہے، یہ سوگ نہیں ہے۔
مسلمانوں کا شرف یہ ہے کہ صابر اور شاکر ہو
خیال و فعل میں حق ہی کا شاغل اور ذاکر ہو
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زینب بنت رسول اﷲﷺ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنے کا ارادہ کیا تو انہیں حضورﷺ نے اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور فرمایا: اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا: اے عورتوں شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (اپنے) چہرے کو پیٹے، گریبان کو پھاڑے (یعنی ماتم کرے) اور زمانہء جاہلیت کی سی باتیں کرے (یعنی نوحہ کرے) وہ ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں ہے۔
بخاری حدیث 1297، کتاب الجنائز.
یعنی میت وغیرہ پر منہ پیٹنے، کپڑے پھاڑنے، رب تعالیٰ کی شکایت، بے صبر کی بکواس کرنے والی ہماری جماعت یا ہمارے طریقہ والوں سے نہیں ہے۔ یہ کام حرام ہیں۔ ان کاکرنے والا سخت مجرم۔ یہ عام میت کا حکم ہے لیکن شہید تو بحکم قرآن زندہ ہیں، انہیں پیٹنا تو اور زیادہ جہالت ہے۔
حضرت ابو مالک اشعری رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
میری امت میں زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ہیں جن کولوگ نہیں چھوڑیں گے، حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسرے شخص کو نسب کا طعنہ دینا، ستاروں کو بارش کا سبب جاننا اور نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے قیامت کے دن گندھک اور جرب کی قمیص پہنائی جائے گی (مسلم حدیث 934، مشکوٰۃ حدیث 1727، کتاب الجنائز باب البکائ)
(شیعوں کی معتبر کتاب، حیات القلوب، ملا باقر مجلسی جلد 2، ص 677)
میت کے سچے اوصاف بیان کرنا ندبہ ہے اور اس کے جھوٹے بیان کرنا نوحہ ہے۔ ندبہ جائز ہے نوحہ حرام ہے۔ گندھک میں آگ بہت جلد لگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے اور جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے نائحہ پر اس دن خارش کا عذاب مسلط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیا جائے گا (مراۃ جلد 2، ص 503)
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں، کسی کے نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا (مسلم حدیث 67، کتاب الایمان)
اس حدیث میں میت پر نوحہ کرنے کو کفر قرار دیا گیا ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ حلال سمجھ کر میت پر نوحہ کرنا کفر ہے اور اگر اس کام کو برا سمجھ کر کیا جائے تو یہ حرام ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو کوفہ کے بازاروں میں پھرایا۔ کوفہ کے شیعوں نے رو رو کر کہرام برپا کردیا۔ شیعوں کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوفہ والوں کو روتا دیکھ کر سیدنا امام زین العابدین نے فرمایا:
حضرت سیدہ طاہرہ زینب نے فرمایا:
کہ تم لوگ میرے بھائی کو روتے ہو؟ ایسا ہی سہی۔ روتے رہو، تمہیں روتے رہنے کی کھلی چھٹی ہے۔ کثرت سے رونا اور کم ہنسنا۔ یقینا تم رو کر اپنا کانا پن چھپا رہے ہو۔ جبکہ یہ بے عزتی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تم آخری نبی کے لخت جگر کے قتل کا داغ آنسوئوں سے کیسے دھو سکتے ہو جو رسالت کا خزانہ ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار ہے (احتجاج طبرسی ج 2، ص 30)
مذکورہ بالا خطبہ سے معلوم ہوگیا کہ قاتلان حسین شیعہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ علمائے شیعہ نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ ملا خلیل قدوینی لکھتا ہے: ان کے (یعنی شہدائے کربلا کے) قتل ہونے کا باعث شیعہ امامیہ کا قصور ہے تقیہ سے (صافی شرح اصول کافی)
کیا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قاتل شیعہ تھے؟
ترجمہ: یہ عریضہ شیعوں فدیوں اور مخلصوں کی طرف سے بخدمت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہا (جلاء العیون ص 358)
بے صبری کا انجام کیا ہوتا ہے؟
کتب شیعہ کی روشنی میں بیان کریں
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:
امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا
فرمان امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ
الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الحسد فاذا ذہب الراس ذہب الجسد کذالک اذا ذہب الصبر ذہب الایمان
صبر کا ایمان سے ایسا تعلق ہے جیسا کہ جسم انسانی کے ساتھ سر کا، جب سر نہ رہے، جسم نہیں رہتا، اسی طرح جب صبر نہ رہے، ایمان نہیں رہتا (اصول کافی جلد 2، ص 87، کتاب الایمان والکفر باب الصبر)
امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
کیا پیغمبر، امام یا شہید کا ماتم کرنا جائز ہے؟
جواب: کسی کا بھی ماتم جائز نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو فرمایا۔
نبی کریم ﷺ کی وفات پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا
کربلا میں امام حسین رضی اﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت
ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:
کہ امام حسین نے میدان کربلا میں جانے سے پہلے اپنی بہن زینب کو وصیت فرمائی، اے میری معزز! بہن میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں اہل جفا کی تلوار سے عالم بقاء میں رحلت کرجائوں تو گریبان چاک نہ کرنا، چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا اور واویلا نہ کرنا (جلاء العیون جلد 2، ص 553، فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران)
شاعر نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی وصیت کو اپنے انداز میں پیش کیا
ﷲ کو سونپا تمہیں اے زینب و کلثوم
لگ جائو گلے تم سے بچھڑتا ہے یہ مظلوم
اب جاتے ہی خنجر سے کٹے گا میرا یہ حلقوم
ہے صبر کا اماں کے طریقہ تمہیں معلوم
مجبور ہیں ناچار ہیں مرضی خدا سے
بھائی تو نہیں جی اٹھنے کا فریاد وبکاء سے
جس وقت مجھے ذبح کرے فرقہ ناری
رونا نہ آئے نہ آواز تمہاری
بے صبروں کا شیوہ ہے بہت گریہ و زاری
جو کرتے ہیں صبر ان کی خدا کرتا ہے یاری
ہو لاکھ ستم رکھیو نظر اپنے خدا پر
اس ظلم کا انصاف ہے اب روز جزاء پر
قبر میں ماتمی کا انجام کیا ہوگا؟
قبر میں ماتمی کا منہ قبلہ کی سمت سے پھیر دیا جائے گا:
گانا گانے والے اور مرثیہ خواں کو قبر سے
اندھا اور گونگا کرکے اٹھایا جائے گا
رسول اﷲﷺ سے منقول ہے کہ غنا کرنے والا اور مرثیہ خواں کو قبر سے زانی کی طرح اندھا اور گونگا کرکے اٹھایا جائے گا۔ اور کوئی گانے والا جب مرثیہ خوانی کے لئے آواز بلند کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ دو شیطان اس کی طرف بھیج دیتا ہے جو اس کے کندھے پر سوار ہوجاتے ہیں۔ وہ دونوں اپنے پائوں کی ایڑھیاں اس کی چھاتی اور پشت پر اس وقت تک مارتے رہتے ہیں۔ جب تک وہ نوحہ خوانی ترک نہ کرے (شیعہ کی معتبر کتاب: مجمع المعارف حاشیہ برحلیۃ المتقین ص 163، درحرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)
حضورﷺ نے فرمایا: میں نے ایک عورت کتے کی شکل میں دیکھی۔ کہ فرشتے اس کی دبر (پاخانے کی جگہ) سے آگ داخل کرتے ہیں اور منہ سے آگ باہر آجاتی ہے۔ اور فرشتے گرزوں کے ساتھ اس کے سر اور بدن کو مارتے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے پوچھا۔ میرے بزرگوار ابا جان مجھے بتلایئے کہ ان عورتوں کا دنیا میں کیا عمل اور عادت تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر اس قسم کا عذاب مسلط کردیا ہے۔
کیا ماتم سننے کی بھی ممانعت ہے؟
ایک شبہ:
فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت دی۔
آپ کی بیوی چلانے لگیں، پس اپنا منہ پیٹ لیا (شیعہ ترجمہ) معلوم ہوا کہ ماتم کرنا حضرت سارہ کی سنت ہے۔
جواب: کوئی شیعہ اس آیت سے حضرت سارہ کا ماتم کے لئے پیٹنا ہرگز ثابت نہیں کرسکتا کیونکہ قدیم ترین شیعہ مفسر علامہ قمی کے مطابق مصکت پیٹنے کے معنی میں نہیں ہے۔ غطت ڈھانپنے کے معنی میں ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت سارہ عورتوں کی جماعت میں آئیں اور حیا سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا کیونکہ جبریل علیہ السلام نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی (تفسیر قمی ج 2، ص 330)
اگر اب بھی تسلی نہ ہوئی تو شیعہ صاحبان کو چاہئے کہ ماتم شہداء کی بجائے بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری سن کر کرنا چاہئے تاکہ اپنے خیال کے مطابق سنت سارہ پر عمل پیرا ہوسکیں۔
اہل بیت کرام نے رسول اﷲﷺ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔
نہ خود ماتم کیا اور نہ کرنے کا حکم دیا اور ہم محب اہل بیت ہیں اور ان کے قول و فعل کو اپناتے ہوئے صبر کا اظہار کرتے ہیں اور جو رسول اﷲﷺ اور ائمہ کرام کے فرمان کو نہ مانے اور بے صبری کا مظاہرہ کرے وہ محب اہل بیت نہیں ہوسکتا۔
عشرہ محرم میں سیاہ لباس پہننا اور مہندی، پنجہ، گھوڑا
اور تعزیہ نکالنے کا کیا حکم ہے
مہندی، پنجہ، گھوڑا ار تعزیہ نکالنا یزیدیوں کے کرتوتوں کی نقل ہے
کہا جاتا ہے کہ کربلا میں قاسم بن حسن رضی اﷲ عنہ کی شادی ہوئی تو حضرت قاسم نے مہندی لگائی مروجہ رسم مہندی نکالنے کی اسی کی نقل ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت مخفی نہیں کہ کربلا کا معرکہ خونی شادی کا موقع ہرگز نہ ہوسکتا تھا۔
نیز مہندی پانی میں ملا کر لگائی جاتی ہے اور اہل بیت کے لئے تو پانی بند تھا۔ یونہی پنجہ و گھوڑا نکالنا اور مروجہ تعزیہ بنانا یہ سب بدعت باطلہ اور انصاب میں داخل ہیں۔
ائمہ اہل بیت سے ان چیزوں کی قطعا کوئی سند نہیں ملتی۔ فی الحقیقت یزیدیوں نے صرف ایک دفعہ اہل بیت پر مظالم ڈھا کر کوفہ و دمشق کے بازاروں میں گھمایا تھا لیکن یہ لوگ ہر سال یزیدیوں کے کرتوتوں کی نقل بناکے گلی کوچوں میں گھماتے پھرتے ہیں۔ پھر اس پر دعوت محبت بھی۔ اﷲ ہدایت دے۔
عشرہ محرم میں سیاہ لباس پہننا ممنوع ہے
مذہب مہذب اہل سنت و جماعت میں علی العموم سیاہ لباس پہننا محض مباح ہے۔ نہ تو اس پر کسی قسم کا ثواب مرتب ہوتا ہے، نہ گناہ۔ البتہ ماتم کی غرض سے سیاہ کپڑے پہننا شرعا ضرور ممنوع ہے۔
شیعہ اثناء عشریہ کے مذہب میں ماتم کا موقع ہو یا نہ، ہر حال میں سیاہ لباس سخت گناہ و ممنوع و حرام ہے۔
پھر اسے ثواب جاننا بالکل الٹی گنگا بہانا اور شیعہ مذہب کے مطابق ڈبل گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ چنانچہ شیعہ لٹریچر کی انتہائی مستند کتب سے دلائل ملاحظہ ہوں۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا
شیعہ حضرات کے یہی صدوق رقم طراز ہیں:
شیعوں کے مشہور محدث شیخ صدوق لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق سے سیاہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا:
لاتصل فیہا فانہا لباس اہل النار
سیاہ ٹوپی میں نماز مت پڑھو بے شک وہ (سیاہ لباس) جہنمیوں کا لباس ہے۔ (من لایحضرہ الفقیہ باب ما یصلی فیہ حدیث 19765، حلیۃ المتقین ملا باقر مجلسی باب اول در لباس پوشیدن فصل چہارم در بیان رنگہائے)
کربلا جانے والے اہل بیت کی تعداد کیا تھی؟
حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے (۱) علی اوسط امام زین العابدین (۲) علی اکبر (۳) علی اصغر رضی اﷲ عنہم اور ایک بیٹی حصرت سکینہ جن کی عمر سات سال تھی۔ دو بیویاں بھی ہمراہ تھیں حضرت شہربانو اور علی اصغر کی والدہ
حضرت امام حسن کے چار صاحبزادے (۱) حضرت قاسم (۲) حضرت عبداﷲ (۳) حضرت ابوبکر (۴) حضرت عمر رضی اﷲ عنہم کربلا میں شہید ہوئے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے پانچ (۱) حضرت عباس (۲) حضرت عثمان (۳) حضرت عبداﷲ (۴) حضرت جعفر (۵) حضرت محمد اصغر (ابوبکر) رضی اﷲ عنہم
حضرت علی کی کل اولاد (۲۷) ہیں، ان میں سے پانچ کربلا میں شہید ہوئے ۔
(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ 440/1)
حضرت عقیل کے (۴) فرزندوں سے حضرت امام مسلم پہلے ہی شہید ہوچکے تھے اور تین کربلا میں شہید ہوئے (۲) حضرت عبداﷲ (۳) حضرت عبدالرحمن (۴) حضرت جعفر رضی اﷲ عنہم
حضرت زینب امام حسین کی بہن کے دو بیٹے عون اور محمد رضی اﷲ عنہم
ان کے والد کا نام حضرت عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ عنہ کربلا میں شہید ہوئے۔
شیعہ نہ اہل بیت کو مانتے ہیں اور نہ شہداء کربلا کو، حضرت امام حسن کے صرف ایک بیٹے حضرت قاسم کا نام لیتے ہیں۔ حضرت عبداﷲ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہم تین کا نام نہیں لیتے۔
اگر وہ شہداء کربلا کا نام لے لیں تو ان کا عقیدہ ختم ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کا صحابہ کرام سے پیار تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنی اولاد کے نام خلفائے راشدین کے نام پر رکھے۔ اہل سنت چاروں کا نام لیتے تو حقیقت میں شہداء کربلا کو ماننے والے سنی ہیں، شیعہ ان کے منکر ہیں۔
شیعہ حضرت علی کی اولاد کے بھی منکر ہیں۔ پانچ شہداء کربلا میں صرف ایک کا نام لیتے ہیں۔ حضرت عباس کا، ان کا علم بھی لگاتے ہیں، باقی چار کا نام تک نہیں لیتے حالانکہ حضرت عباس کے حضرت عثمان، حضرت عبداﷲ اور حضرت جعفر کے سگے بھائی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام البنین بنت حرام ہے اور حضرت محمد اصغر (ابوبکر) بن علی کا نام بھی نہیں لیتے ان کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود تھا تو شہداء کربلا اور اہل بیت کا منکر کون اور محب کون؟
شیعہ حضرت امام حسین کی اولاد کو امام مانتے ہیں جو کربلا میں شہید بھی نہیں ہوئے اور آپ کے سگے بھائی حضرت امام حسن کی اولاد کو امام نہیں مانتے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔ کتنی ناانصافی ہے اور حضرت علی کی اولاد کو بھی امام نہیں مانتے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔
اہل بیت کی تین قسمیں ہیں (۱) اہل بیت سکونت یعنی ازواج (۲) اہل بیت ولادت (۳) اہل بیت نسب پہلی قسم اہل بیت سکونت یعنی (۱۱) ازواج میں سے صرف ایک زوجہ حضرت خدیجہ کو مانتے ہیں۔ باقی سب کا انکار کرتے ہیں بلکہ ان کو گالیاں دیتے ہیں حالانکہ قرآن نے ان کو اہل بیت اور مومنوں کی ماں فرمایا ہے۔ اہل سنت سب کو مانتے ہیں۔
دوسری قسم اہل بیت ولادت چار بیٹیوں میں سے صرف ایک بیٹی کو مانتے ہیں لہذا اہل بیت کے منکر ہوئے بلکہ یہ حضرت علی کی بیویوں کے بھی منکر ہیں۔ حضرت علی کی ایک بیوی کا نام امامہ تھا۔
یہ نبی کریم ﷺ کی نواسی تھیں۔ حضرت زینب کی بیٹی اگر نبی کریمﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ حضرت فاطمہ تو پھر حضرت علی کی بیوی حضرت امامہ بنت زینب بنت رسول اﷲ کہاں سے آگئیں۔ معلوم ہوا کہ اہل سنت ہی اہل بیت اور شہداء کربلا کے محب ہیں ۔
اہل بیت کے سچے محب کون ہیں؟
اہل بیت کے سچے محب سنی ہیں، شیعہ منکر اہل بیت ہیں کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کی چاربیٹیوں میں سے ایک کو اور تمام زواج میں سے صرف ایک زوجہ کو مانتے ہیں۔ اس لئے یہ منکر اہل بیت ہیں نیزاس واقعہ سے بھی اہل سنت کی حقانیت واضح ہے۔