How to make a GIF Image with using Adobe Photoshop 7.0 (2015)

Hi guys today I'm posting about photo shop. In this post I will tell you How to create a moving (gif) picture with haveing adobe photoshop 7.0, I have seen that people saw any gif image and say wow
how good it is and they dont know that there are an easy way in photoshop to make those gif images, so I have added a new categery of photoshop and I'll post about photoshop you can see more posts
releted with phptoshop by clicking this link. To make some gif Images just follow some easy steps given below. see a live demo in below Image.

Open your adobe phtoshop 7.0 and Go to File and then click Open, you can press Ctrl+O to direct open. Now select your some images with same size.
Now press Ctrl+N and open a new blank box.
Now select Move Tool   from left side tool box.
Move your pictures in blank box and delete blank background lyer from the box By clicking on delete Button in reght side lyre box.

Now if you are redy so Click on Last Jump to Imagery  tool from left side tool box or press Ctrl+Shift+M to go direct.
Adobe Imageready will open, now If you added 2 pictures in blank box so make a Duplecate of your corrent farem by clicking Duplicate corrent fareme button.see the picture below

Now remove indicates layer visibelety of 2nd image from first freme and 1st image's from secound frame by removing eye

.
Now set time of your image to move like 0.1,0.5, 1.0, 2.0 etc, and click on play your image will show 1 by 1 on the time as you set your image.

If you are completed all avebe steps so press Ctrl+Shift+Alt+s  or go to file and click on save optemezid as and save your image.
Now you are done just duble click on the image and see your work on your browser.

What Is Virus

Q:-
     When and by whom were the virus discovered.?

Ans:-
           Virus Discovered by W-Stainly in 1935.

لفافه صحافی سب سے آگے

ابھی ایک اشتہار پر سے نظر گزری، جو شاعری کی ایک نئی مطبوعہ کتاب کے بارے میں تھا۔ کتاب کی اشاعت اگست 2015، یعنی دو ماہ پہلے کی ہی تھی، ناشر جہلم کا اور ملنے کا پتہ ایک چاٹ اینڈ دہی بھلے کارنر کا تھا۔ ان میں سے ایک شعر نے تو دل چھو لیا:

پوچھ میرے پیروں کے آبلوں سے

منزل تک پہنچنے میں کتنے زمانے لگے

ہو سکتا ہے کہ شاعر کو چاٹ اور دہی بھلے والے سے بہتر کوئی سخن فہم کتاب بیچنے والا نہ ملا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس پھلدار کاروبار کا مالک شاعر خود آپ ہو۔

برِ صغیر کے اہلِ ہنر کی آشفتہ حالی اور آبلہ پائی کچھ نئی نہیں، قرض کی مے کی عیاشی تو خیر کسی کسی کو میسر تھی، یہاں تو ضروریات زندگی اور ادویات کے لیے بھی بڑے بڑے نام امیر وقت کی چوکھٹ پر سرنگوں پائے گئے ہیں۔ کیا کبھی وہ وقت بھی آئے گا جب میرے ملک میں لکھنے والوں کا معیار زندگی بلند ہو پائے گا؟

فیصل آباد کا ناول نگار جو زندگی گزارنے کے لیے رکشہ چلاتا ہے اور فیصل آباد ہی کے نواح کا ایک موچی جو کئی کتابوں کا مصنف ہے، یہ خبریں ابھی بالکل تازہ ہیں، کیا اتنی کتابوں کے بعد ان کے مستقبل کا ستارہ جگمگا نہیں جانا چاہیے تھا؟ کیا بارہ کتابوں کے خالق کی زندگی میں کچھ بہتری نہیں آ جانی چاہیے تھی؟ مگر جہاں الفاظ کوڑیوں کے مول بک جائیں، جہاں جذبات کی قدر و قیمت کا پھل صرف بیوپاری کی جھولی میں گرے وہاں لکھنے والے اور فنکار کی زندگی کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی۔

آج سے تیرہ سال پہلے میں اپنی پہلی کتاب کا مسودہ اٹھائے اردو بازار لاہور کی گلیاں چھان رہا تھا۔ یہ کتاب زراعت کے مقابلے کے امتحان کی تیاری کے لیے ترتیب دی گئی تھی اور اس قسم کی کوئی دوسری کتاب مارکیٹ میں موجود نہ تھی۔ کچھ احباب کی مدد سے کتاب کا مواد اکٹھا کیا گیا، کمپوز کیا گیا گیا، اور چھپوانے کے لیے کسی پبلشر کی تلاش ہوئی۔

ہر بازار کی طرح اردو بازار میں بھی خالصتاً تاجر ہی بستے ہیں۔ ایک دو نے اس مسودے کو ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔ اور ایک دو نے کچھ اعزازی کتابوں کے عوض اس کو چھاپنے کا عندیہ دیا۔ اور جس مہربان پبلشر نے اس مسودے کی سب سے زیادہ قیمت لگائی وہ پچاس روپے فی صفحہ تھی۔ کتاب کے چار سو صفحات کی کل قیمت 20،000 روپے بنتی تھی، جو وہ مجھے یک مشت ادا کرنے کی آفر کر رہے تھے ۔ اس کے بعد وہ جانیں اور کتاب۔

اپنی محنت کی یہ قیمت سن کر میرا دل کھول اٹھا۔ یہ چار سو صفحات کیونکہ سوال و جواب کی صورت میں کمپوز ہوئے تھے، یعنی ایک سوال اور جواب میں چار مختلف آپشنز جن میں ایک درست ہوا کرتا ہے، اس لیے اس کا اصل مسودہ اٹھارہ سو صفحات پر کمپوز ہوا تھا۔ بعد میں کتاب کے صفحات کی ترتیب میں ہر صفحہ پر سوال و جواب کی تعداد بڑھا کر اس کے صفحات کم کیے تھے۔

13 سال پہلے کمپوزرز آج سے زیادہ مصروف اور مہنگے ہوتے تھے، کیونکہ کمپیوٹر ہر شخص کا ذاتی نہ ہوتا تھا۔ اور ہم ایسے طالب علم تو بس انہیں دور سے ہی دیکھتے رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ یونیورسٹی کے کمپوزنگ والے دکاندار سی ڈی پر مٹیریل لینے کے بھی روپے چارج کیا کرتے تھے۔ ان حالات میں کمپوز ہوئی کتاب کی اتنی کم قیمت سن کر میں لاہور کے اس مشہور پبلشر کے چوبارے سے میز پر دھری استقبالی چائے بھی چھوڑ کر چلا آیا۔

من پر ایک دھن سوار تھی کہ اس کتاب کو چھاپنا ہے اور ایک ماہ کے اندر چھاپنا ہے تاکہ امتحانات سے پہلے پہلے آ جائے۔ کتاب چھپوانے کی قیمت کے تخمینے لگوائے گئے اور سوچا گیا کہ اس کتاب کو خود ہی چھاپ لیا جائے۔ ایک کتاب کی چھپوائی 25 سے 30 روپے میں پڑ رہی تھی، یعنی 25 سے 30 ہزار روپیہ ہی درکار تھا۔ دوستوں اور بڑے بھائیوں سے ادھار لے کر اس کا پہلا ایڈیشن چھاپا اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کتاب کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور ایک ماہ کے اندر اندر دوستوں کا قرض اتار دیا۔ اب تک اس کے چھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔

اگر آپ کے پاس انویسٹ کرنے کو کچھ روپے ہوں اور لگتا ہو کہ آپ کی کتاب بک سکتی ہے تو بیچنے والے کو 40 فیصد کمیشن دے کر بھی آپ کو مناسب منافع مل سکتا ہے۔ وہ کتاب جس کا مسودہ 20 ہزار روپے قیمت پا رہا تھا، اب اوسطاً ہر ایڈیشن پر 1 لاکھ روپیہ منافع دیتا ہے، لیکن کیونکہ لکھنے والوں کے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہوتی اس لیے وہ پبلشر کے ہاتھوں لٹنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ہمارے اکثر پبلشرز مصنفین کا جائز حق دینے سے بھی کتراتے ہیں۔ کتاب بکنے والی ہو اور مصنف اس کے حقوق بیچنے پر تیار نہ ہو تو رائلٹی کے نام پر 15 سے 20 فیصد پر گھیر لیتے ہیں، یعنی ایک ایڈیشن پر 15 سے 20 ہزار روپے مصنف کو ملیں گے، اورایسے معاملات میں چپکے سے ایڈیشنز کی تعداد میں اضافہ کر دیتے ہیں، جیسے پندرہ سو کتابوں کا ایڈیشن چھاپ لیا اور مصنف کو بتایا کہ ہزار کتابوں کا ایڈیشن ہے۔

اگر کسی نہ کسی طرح آپ ان کے چنگل میں پھنسنے کو تیار نہیں، اور آپ چاہتے ہیں کہ خود سے پبلشر ہوں اور آپ کو کتاب بیچنے میں مدد مل جائے تو کتاب بیچنے والے اپنا منافع 40 سے 50 فیصد پر لے جاتے ہیں۔ یعنی جو کتاب تین سو روپے میں بکے گی وہ بیچنے والے کو 120 سے لے کر 150 روپے میں ملے گی۔ اب ذرا غور کیجیے کہ کتاب چھاپنے، لکھنے والے کا حصہ ڈیڑھ سو ہے، اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جو اس کتاب کی اشاعت پر لگی ہے، اور دوسری طرف کتاب بیچنے والا کا منافع بھی ڈیڑھ سو ہے۔

قصہ مختصر دس بارہ کتابوں کے مصنف کی زندگی میں کوئی بہار آنے کی کوئی امید ہی نہیں۔ کتابوں سے آنے والی آمدنی سے گھر، گاڑی بنانے کا خیال پاکستان جیسے ملک میں ایک خواب ہی ہوسکتا ہے۔

اب ایسے ہی ہمارا پرنٹ میڈیا ہے، جو اپنے منافع میں کسی کو شریک کرنے کا روادار نہیں۔ پاکستان کے انگریزی اخبارات میں سے چند ایک تو اپنے لکھنے والوں کو اعزازیہ دیتے ہیں، لیکن اردو اخبارات دو چار مضامین ماہانہ لکھنے والے چند بڑے ناموں کے علاوہ کسی کو کسی قسم کا معاوضہ تو درکنار اعزازیہ دینے کے بھی روادار نہیں۔

لوگ اس آرزو میں لکھتے لکھتے بوڑھے ہو جاتے ہیں کہ ان کا لکھا ہوا ان کے لیے زندگی کی آسائشیں خرید پائے گا، اور جب ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا تو لوگ چور دروازوں کے متلاشی ہو جاتے ہیں، کسی سیاسی مافیا کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں، اپنی سوچ، دلیل اور جذبات گروی رکھ دیتے ہیں۔ آپ اردگرد نظر دوڑا کر دیکھ لیں، خوشامدی اور درباری قسم کے لکھاری ہر حکومت کی آنکھ کا تارہ رہتے ہیں۔ سرکاری عہدوں سے بھی نوازے جاتے ہیں اور نجی ادارے بھی ان کی تحاریر کے اچھے دام دیتے ہیں۔ یہ معاشرے کی پستی اور زوال کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں میں لکھنے والوں کی کتابیں جوتوں کی دکانوں پر بٹیں یا دہی بھلوں کی ریڑھیوں پر فروخت ہوں، کیا فرق پڑتا ہے؟

پوسٹ بشکریه رمضان رفیق

دوست

کچھ دوست بهت یاد آتے هیں

محبت

بک گئی میری محبت کیوں که میں غریب تھا

Sahir Ludhianvi (8 March 1921–25 October 1980)

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

پل دو پل مری کہانی ہے

پل دو پل میری ہستی ہے

پل دو پل مری جوانی ہے

مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے

اور آ کر چلے گئے

کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے

کچھ نغمے گا کر چلے گئے

وہ بھی اک پل کا قصہ تھے

میں بھی اک پل کا قصہ ہوں

کل تم سے جدا ہو جاؤں گا

گو آج تمہارا حصہ ہوں

کل اور آئیں گے نغموں کی

کھلتی کلیاں چننے والے

مجھ سے بہتر کہنے والے

تم سے بہتر سننے والے

کل کوئی مجھ کو یاد کرے

کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے

مصروف زمانہ میرے لیے

کیوں وقت اپنا برباد کرے

ساحر لدھیانوی پر کبھی نوجوانوں کا شاعر تو کبھی فلمی شاعر جیسے لیبل لگا کر ان کی ادبی صلاحیتیوں سے انکار کی کوشش کی گئی مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ ساحر پل دو پل کے شاعر نہیں تھے اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ کارِ زیاں نہیں تھا۔

ساحر لدھیانوی کا حقیقی نام عبدالحئی تھا۔ انہوں نے بچپن اور نوجوانی میں بہت ہی سختیاں جھیلی تھیں۔ 1937ء میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخل ہوئے مگر اپنی بے توجیہی کے سبب وہاں سے نکالے گئے۔ پھر دیال سنگھ کالج کا رخ کیا جہاں ایک معاشقے کے سبب انہیں کالج سے خارج کر دیا گیا۔ پھر انہوں نے شاعری کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ شائع ہو چکا تھا جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔

ساحر لدھیانوی کا گھرانہ علمی و ادبی نہ تھا۔ نہ اسے شاعری ورثے میں ملی، نہ ان کی آنکھ کسی خوبصورت پاکیزہ ماحول میں کھلی۔ ماحول نے ان کو بے اطمینانی اور بے کیفی دی۔ وہ اس ماحول میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگے۔ معاشرے کا زہر ان کی رگ و پے میں سرایت کر گیا اور پھر انہوں نے اس زہر کا تریاق شاعری میں ڈھونڈا۔ اپنے نفرت کے جذبے کو تسکین دینے اور معاشرے کو اس کا کوڑھ زدہ چہرہ دکھانے کے لیے انہوں نے شاعری کا سہارا لیا جو ان کو قدرت کی طرف سے ودیعت کی گئی تھی۔

ساحر مبلغ تھے نہ مصلحت پسند، مگر ان کے اندر اپنے ماحول کے خلاف بغاوت کا جذبہ موجود تھا۔ ان کی نظم ثنأ خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں ان کے جذبات کی عکاس اور ان کے ماحول کے تجزیے کی بہترین نظم ہے

یہ اٹھتی نگاہیں حسینوں کی جانب

لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب

یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب

ثنأ خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی

پیغمبر کی امت زلیخا کی بیٹی

ثنأ خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں

بلاؤ خدایانِ دین کو بلاؤ

یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ

ثنأ خوانِ تقدیسِ مشرق کو لاؤ

ثنأ خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں

ساحر کا سفر تب شروع ہوا تھا جب ان کے جاگیردار باپ نے تین چار برس کی عمر میں انہیں والدہ کے ہمراہ گھر سے نکال دیا تھا۔ ان کا باپ ایک روایتی زمیندار تھا جو اپنی زمینیں بیچ بیچ کر شادیاں کرتا تھا۔ ساحر کی زندگی کا یہ سفر لدھیانہ میں ریلوے لائن کنارے ایک چوبارے سے شروع ہوا اور بمبئی میں ساحل سمندر کے کنارے ایک فلیٹ میں ختم ہو گیا۔ بیچ کی ساری زندگی ساحر دنیا کی بھیڑ میں محبت و یقین کی پناہیں تلاشتے رہے۔

مشاہدے کی ہمہ گیری اور ماحول کے اثر نے اس میں رنگ بھرے۔

ساحر کی شاعری میں جن خصوصیات نے مجھے متاثر کیا ان میں احساس کی شدت بہت نمایاں ہے۔ میں ساحر کی خصوصیات گنوا کر اور اس کے کلام سے مثالیں پیش کر کے اس تحریر کو مزید طول نہیں دینا چاہتا۔ ان کے کلام سے کوئی بھی نظم لے لیجیے، اس میں احساس کی گہرائی گندھی ہوئی محسوس ہو گی۔ آخر میں ساحر کے کلام سے اپنی پسند کی نظم پیش خدمت ہے۔

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی

نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے

نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے

تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے

مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں

مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی

تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں

تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ہو ناممکن

اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

Indian Propagnda

This picture Is being posted by Indian media as an alleged anti Pakistan protest by Azad Kashmir students.

Poor desperate Indian media is so ignorant and lame that they failed to see Afghan flags clearly held by these people? The picture is from Afghanistan and we know they regularly protest against Pakistan upon their failure about keeping their country peaceful.

About Pakistani Kashmir. It is the only part of Kashmir which is free,as evident by the name "Azad" Kashmir. Also evident by the fact that they have their own legislative assembly, own prime minister and president. They are with Pakistan because they want to.

On the other hand Indian held Kashmir is well and truly "held" . They have no freedom,no rights. Even moharram processions are banned.

By spamming such lies over the internet, Indians want to somehow equate Indian Held Kashmir with our Azad Kashmir.
But Ignorant Indians can't even do that right...

sskhanpti.blogspot.com
‪#‎INDIA‬
‪#‎KASHMIR‬

Mara Dost

وه باغ نهيں جس کے کونے میں انار نھیں
وه یار نھیں جس کی آنکھوں میں پیارنھيں

ھر ستاره چاند کے قریب نھیں ھوتا
دل کی دولت والا غریب نھيں ھوتا

دوست آپ جیسا ملا ھے
مقدر سے
ھرکسی کا نصيب ایسا نھیں ھو‎‏

دنیا کے پانچ سب سے زیادہ Innovative ممالک


امریکہ
--------
بزنس مارکیٹس کو ریوولشنائزڈ کردیا، سٹاکس سے لے کر لاجسٹکس تک، ہر انڈیسٹری کو جدید بنا دیا
سب سے زیادہ یوٹیوب ویڈیوز امریکی اپ لوڈ کرتے ہیں جن میں انڈسٹریل ٹیکنیکس سے لے کر کھانے پکانے کی ترکیبیں تک شامل ہوتی ہیں۔
کمپیوٹر سافٹ وئیر پر سب سے زیادہ خرچ کیا جاتا ھے۔

ہالینڈ
---------
دنیا کا جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم، جن میں خاص کر بائیکس شامل ہیں۔
رسرچ اور ڈیویلپمنٹ پر خاص فوکس۔
حکومت اور شہریوں کے درمیاں مثالی ریلیشنشپ مینجمنٹ۔

سویڈن
----------
دنیا کا سب سے بہترین یونیورسٹی مینجمنٹ سسٹم، جس میں سب کیلئے فری تعلیم شامل ھے۔
ادویات کے چند بڑے پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹرز میں سے ایک۔
آبادی کے لحاظ سے انجینئرز کی تعداد میں دوسرے نمبر پر۔

برطانیہ
----------
تخیلاتی کاموں کیلئے ایک علیحدہ سے حکومتی ادارہ قائم۔
ٹرانسپورٹ سسٹم اور دوسرے ٹینکنکل آؤٹ پٹ میں لیڈنگ پوزیشن۔
جی ڈی پی کا ایک بھاری حصہ ریسرچ میں سرمایہ کاری کیلئے مختص۔

سوئٹزرلینڈ
--------------
2014 میں سب سے زیادہ patents فائل کئے جو انوویشن کا سب سے بڑا انڈیکیٹر سمجھا جاتا ھے۔
جدید بنکنگ سیکٹر۔ کئی بنکوں نے تو اپنی انوویشن لیبز بنالی ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکلز فزکس لیب۔
بزنسز اور کارپوریٹ سیکٹر ایک دوسرے سے لنک کردیئے گئے اور کسی کیلئے بھی بزنس کرنا آسان بنا دیا گیا۔

پاکستان
------------
لوگوں کیلئے باہر سے کھانا عذاب - کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کھوتا کھا رہا ھے، کتا کھا رہا ھے، حرام کھا رہا ھے یا حلال۔
اگر چنگ چی رکشے بند ہوجائیں تو پورا ملک جام ہو کر رہ جائے۔
یوٹیوب پچھلے 5 سال سے بند۔ ڈیلی موشن پر عوام سارا دن ٹی وی اداکاراؤں کے کھلے گلے میں سے جھانکتا "مال" تلاش کرتے رہتے ہیں۔
آج یوم عاشور پر موبائل سروس بند۔ اگر کسی نے رابطہ کرنا ہو تو کبوتر کے ذریعے چٹھی بھیج سکتا ھے۔
اور آج ہم 21 ویں صدیں میں بیٹھے یہ سوچ رھے ہیں کہ مسلمان دنیا پر حکومت کریں گے۔ ہمارے سیاستدان، فوجی لیڈر، مذہبی رہنما پچھلے 68 سالوں سے عوام کو چونا لگا کر اپنے حالات خوب سے خوب تر کئے جارھے ہیں اور عوام کی حالت گٹر میں رینگنے والے کیڑوں سے بدتر ہوتی جارہی ھے۔
ہم ہیں مستقبل کے لیڈر...!!!

پوسٹ بشکریه باباکوڈا فیس بک پیج

ماتم کرنا ، چہرے پیٹنا شرعا حرام و ناجائز ہے ، مستند دلائل


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اپنی مصیبت یا مصائب اہل بیت کو یاد کرکے ماتم کرنا یعنی ہائے ہائے، واویلا کرنا، چہرے یا سینے پر طمانچے مارنا، کپڑے پھاڑنا، بدن کو زخمی کرنا، نوحہ و جزع فزع کرنا، یہ باتیں خلاف صبر اور ناجائز و حرام ہیں۔ جب خود بخود دل پر رقت طاری ہوکر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور گریہ آجائے تو یہ رونا نہ صرف جائز بلکہ موجب رحمت و ثواب ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں (سورۃ البقرہ آیت 154)
ماتم تو ہے ہی حرام، تین دن سے زیادہ
سوگ کی بھی اجازت نہیں ہے
حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ جو عورت اﷲ اور آخرت پر ایمان لائی ہو، اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ البتہ اپنے خاوند کی (موت پر) چار ماہ دس دن سوگ کرے (بخاری حدیث 299، الکتاب الجنائز، مسلم حدیث 935، مشکوٰۃ حدیث 3471 کتاب الجنائز)
امام حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
کسی مسلمان کو کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا سوائے عورت کے کہ وہ عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی موت پر سوگ کرسکتی ہے
(من لایحضرہ الفقیہ ج 1)
اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو ہر سال حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سوگ مناتے ہیں اور دس دن سینہ کوبی کرتی ہیں۔ چارپائی پر نہیں سوتے، اچھا لباس نہیں پہنتے اور کالے کپڑے پہنتے ہیں۔ ہاں ایصال ثواب کرنا ان کی یاد منانا اور ذکر اذکار جائز ہے، یہ سوگ نہیں ہے۔
مسلمانوں کا شرف یہ ہے کہ صابر اور شاکر ہو
خیال و فعل میں حق ہی کا شاغل اور ذاکر ہو
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زینب بنت رسول اﷲﷺ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنے کا ارادہ کیا تو انہیں حضورﷺ نے اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور فرمایا: اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا: اے عورتوں شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا:
جس غم کا اظہار آنکھ اور دل سے ہو، وہ اﷲ کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو، وہ شیطان کی طرف سے ہے (مشکوٰۃ کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت 1748) احمد حدیث 3093
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
وہ ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے، گریبان پھاڑے اور ایام جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے (بخاری حدیث 1297، مسلم حدیث 103، مشکوٰۃ حدیث 1725، کتاب الجنائز باب البکائ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (اپنے) چہرے کو پیٹے، گریبان کو پھاڑے (یعنی ماتم کرے) اور زمانہء جاہلیت کی سی باتیں کرے (یعنی نوحہ کرے) وہ ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں ہے۔
بخاری حدیث 1297، کتاب الجنائز.
یعنی میت وغیرہ پر منہ پیٹنے، کپڑے پھاڑنے، رب تعالیٰ کی شکایت، بے صبر کی بکواس کرنے والی ہماری جماعت یا ہمارے طریقہ والوں سے نہیں ہے۔ یہ کام حرام ہیں۔ ان کاکرنے والا سخت مجرم۔ یہ عام میت کا حکم ہے لیکن شہید تو بحکم قرآن زندہ ہیں، انہیں پیٹنا تو اور زیادہ جہالت ہے۔
حضرت ابو مالک اشعری رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
میری امت میں زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ہیں جن کولوگ نہیں چھوڑیں گے، حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسرے شخص کو نسب کا طعنہ دینا، ستاروں کو بارش کا سبب جاننا اور نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے قیامت کے دن گندھک اور جرب کی قمیص پہنائی جائے گی (مسلم حدیث 934، مشکوٰۃ حدیث 1727، کتاب الجنائز باب البکائ)
(شیعوں کی معتبر کتاب، حیات القلوب، ملا باقر مجلسی جلد 2، ص 677)
میت کے سچے اوصاف بیان کرنا ندبہ ہے اور اس کے جھوٹے بیان کرنا نوحہ ہے۔ ندبہ جائز ہے نوحہ حرام ہے۔ گندھک میں آگ بہت جلد لگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے اور جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے نائحہ پر اس دن خارش کا عذاب مسلط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیا جائے گا (مراۃ جلد 2، ص 503)
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں، کسی کے نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا (مسلم حدیث 67، کتاب الایمان)
اس حدیث میں میت پر نوحہ کرنے کو کفر قرار دیا گیا ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ حلال سمجھ کر میت پر نوحہ کرنا کفر ہے اور اگر اس کام کو برا سمجھ کر کیا جائے تو یہ حرام ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
دو آوازوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ نعمت کے وقت گانا بجانا اور مصیبت کیوقت چلا کر آواز بلند کرنا یعنی نوحہ اور ماتم وغیرہ (بزار حدیث 795، ترغیب امام منذری کتاب الجنائز حدیث 5179)
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
نوحہ کرنے والی عورتوں کی جہنم میں دو صفیں بنائی جائیں گی۔ ایک صف ان کے دائیں طرف اور ایک صف ان کے بائیں طرف تو وہ عورتیں دوزخیوں پر کتوں کی طرح بھونکیں گی (طبرانی فی الاوسط ترغیب امام منذری کتاب الجنائز حدیث 5182)
علامہ شفیع بن صالح شیعی عالم لکھتے ہیں کہ شیطان کو بہشت سے نکالا گیا تو اس نے نوحہ (ماتم) کیا۔ حدیث پاک میں ہے کہ غناء ابلیس کا نوحہ ہے۔ یہ ماتم اس نے بہشت کی جدائی میں کیا۔ اور رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا اور آپ نے یہ بھی فرمایا: کہ ماتم اور مرثیہ خوانی زنا کا منتر ہے۔ (شیعہ کی معتبر کتاب مجمع المعارف حاشیہ حلیۃ المتقین، ص 142، ص 162، اور حرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)
امام حسین رضی اﷲ عنہ کا پہلا باقاعدہ ماتم کوفہ میں آپ کے قاتلوں نے کیا (جلاء الیون ص 424-426 مطبوعہ ایران)
پھر دمشق میں یزید نے اپنے گھر کی عورتوں سے تین روزہ ماتم کرایا (جلاء العیون ص 445 مطبوعہ ایران)
ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو کوفہ کے بازاروں میں پھرایا۔ کوفہ کے شیعوں نے رو رو کر کہرام برپا کردیا۔ شیعوں کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوفہ والوں کو روتا دیکھ کر سیدنا امام زین العابدین نے فرمایا:
یہ سب خود ہی ہمارے قاتل ہیں اور خود ہی ہم پر رو رہے ہیں ۔
(احتجاج طبرسی، جلد 2، ص 29)
حضرت سیدہ طاہرہ زینب نے فرمایا:
کہ تم لوگ میرے بھائی کو روتے ہو؟ ایسا ہی سہی۔ روتے رہو، تمہیں روتے رہنے کی کھلی چھٹی ہے۔ کثرت سے رونا اور کم ہنسنا۔ یقینا تم رو کر اپنا کانا پن چھپا رہے ہو۔ جبکہ یہ بے عزتی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تم آخری نبی کے لخت جگر کے قتل کا داغ آنسوئوں سے کیسے دھو سکتے ہو جو رسالت کا خزانہ ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار ہے (احتجاج طبرسی ج 2، ص 30)
اسی طرح شیعہ کی کتاب مجالس المومنین میں لکھا ہے کہ کوفہ کے لوگ شیعہ تھے (مجالس المومنین ج 1، ص 56)
کیا شیعوں نے امام حسین کو چھوڑ دیا تھا؟
امام حسین رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا: کہ مجھے خبر ملی ہے کہ مسلم بن عقیل کو شہید کردیا گیا ہے اور شیعوں نے ہماری مدد سے ہاتھ اٹھالیا ہے جو چاہتا ہے ہم سے الگ ہوجائے، اس پر کوئی اعتراض نہیں (جلاء العیون ص 421، مصنفہ ملا باقر مجلسی، منتہی الاعمال مصنفہ شیخ عباس قمی ص 238)
مذکورہ بالا خطبہ سے معلوم ہوگیا کہ قاتلان حسین شیعہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ علمائے شیعہ نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ ملا خلیل قدوینی لکھتا ہے: ان کے (یعنی شہدائے کربلا کے) قتل ہونے کا باعث شیعہ امامیہ کا قصور ہے تقیہ سے (صافی شرح اصول کافی)
کیا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قاتل شیعہ تھے؟
ملا باقر مجلسی 150 خطوط کا مضمون بایں الفاظ تحریر کرتا ہے۔
ایں عریضہ ایست بخدمت جناب حسین بن علی از شیعان وفدویان و مخلصان آنحضرت)
ترجمہ: یہ عریضہ شیعوں فدیوں اور مخلصوں کی طرف سے بخدمت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہا (جلاء العیون ص 358)
ان تمام بیانات سے معلوم ہوا کہ امام حسین کے قاتل بھی شیعہ تھے اور ماتم کی ابتداء کرنے والے بھی شیعہ تھے اور ان ماتم کرنے والوں میں یزید بھی شامل تھا۔ اب اگر امام حسین کے غم میں رونے یا ماتم کرنے سے بخشش ہوجاتی ہے تو بخشش کا سرٹیفکیٹ کوفیوں کو بھی مل جائے گا اور یزیدیوں کو بھی مل جائے گا۔
بارہ اماموں کے عہد تک موجودہ طرز ماتم کا یہ انداز روئے زمین پر کہیں موجود نہ تھا۔ چوتھی صدی ہجری 352ھ میں المطیع اﷲ عباسی حکمران کے ایک مشہور امیر معزالدولہ نے یہ طریق ماتم و بدعات عاشورہ ایجاد کیں۔ اور دس محرم کو بازار بند کرکے ماتم کرنے اور منہ پر طمانچے مارنے کا حکم دیا اور شیعہ کی خواتین کو چہرہ پر کالک ملنے، سینہ کوبی اور نوحہ کرنے کا حکم دیا۔ اہل سنت ان کو منع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، اس لئے کہ حکمران شیعہ تھا۔ (شیعوں کی کتاب منتہی الاعمال، ج 1، ص 452، اور اہلسنت کی کتاب، البدایہ والنہایہ، ج 11، ص 243، تاریخ الخلفاء ص 378)
بے صبری کا انجام کیا ہوتا ہے؟
کتب شیعہ کی روشنی میں بیان کریں
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:
صبر کا نزول مصیبت کی مقدار پر ہوتا ہے (یعنی جتنی بڑی مصیبت اتنا بڑا صبر درکار ہوتا ہے) جس نے بوقت مصیبت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے تو اس کے تمام اچھے اعمال ضائع ہوگئے (شیعوں کی معتبر کتاب، نہج البلاغہ، ص 495، باب المختار من حکم امیر المومنین حکم 144) (شرح نہج البلاغہ لابن میثم ج 5، ص 588)
بے صبر کے پاس ایمان نہیں
امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا
صبر کا مقام ایمان میں ایساہے جیسا کہ سر کاآدمی کے جسم میں، اس کے پاس ایمان نہیں جس کے ہاں صبر نہیں ۔
(جامع الاخبار مصنفہ شیخ صدوق، ص 132 الفصل 71، فی الصبر)
فرمان امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ
الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الحسد فاذا ذہب الراس ذہب الجسد کذالک اذا ذہب الصبر ذہب الایمان
صبر کا ایمان سے ایسا تعلق ہے جیسا کہ جسم انسانی کے ساتھ سر کا، جب سر نہ رہے، جسم نہیں رہتا، اسی طرح جب صبر نہ رہے، ایمان نہیں رہتا (اصول کافی جلد 2، ص 87، کتاب الایمان والکفر باب الصبر)
امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنے ہاتھ رانوں پر مارنا اس کے اجر وثواب کو ضائع کردیتا ہے۔ یعنی ماتم سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں (فروع کافی جلد سوم، کتاب الجنائز باب الصبر والجزع)
کیا پیغمبر، امام یا شہید کا ماتم کرنا جائز ہے؟
جواب: کسی کا بھی ماتم جائز نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو فرمایا۔
بیٹی جب میں انتقال کرجائوں تو میری وفات پر اپنا منہ نہ پیٹنا، اپنے بال نہ کھولنا اور ویل عویل نہ کرنا اور نہ ہی مجھ پر نوحہ کرنا (فروع کافی، جلد 5، ص 527، کتاب النکاح باب صفۃ مبایعۃ النبی ﷺ، حیات القلوب، ج 2،ص 687، جلاء العیون ص 65)
نبی کریم ﷺ کی وفات پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا
یارسول اﷲ! اگر آپ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور ماتم کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کا ماتم کرکے آنکھوں اور دماغ کا پانی خشک کردیتے۔ (شرح نہج البلاغہ لابن میثم شیعہ، ج 4، ص 409، مطبوعہ قدیم ایران)
کربلا میں امام حسین رضی اﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت
حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کربلا میں اپنی بہن سیدہ زینب کو وصیت کی فرمایا۔
اے پیاری بہن! اﷲ سے ڈرنا اور اﷲ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرنا، خوب سمجھ لو۔ تمام اہل زمین مرجائیں گے اہل آسمان باقی نہ رہیں گے، میرے نانا، میرے بابا، میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لئے رسول اﷲﷺ کی زندگی اورآپ کی ہدایات بہترین نمونہ ہیں۔ تو انہی کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا: اے ماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں۔ میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔ میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی ہلاکت اور بربادی کے الفاظ بولنا۔ (الارشاد للشیخ مفید ص 232، فی مکالمۃ الحسین مع اختہ زینب، اعلام الوریٰ ص 236 امرالامام اختہ زینب بالصبر، جلاء العیون جلد 2، ص 553 فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران، اخبار ماتم ص 399)
ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:
کہ امام حسین نے میدان کربلا میں جانے سے پہلے اپنی بہن زینب کو وصیت فرمائی، اے میری معزز! بہن میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں اہل جفا کی تلوار سے عالم بقاء میں رحلت کرجائوں تو گریبان چاک نہ کرنا، چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا اور واویلا نہ کرنا (جلاء العیون جلد 2، ص 553، فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران)
شاعر نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی وصیت کو اپنے انداز میں پیش کیا
ﷲ کو سونپا تمہیں اے زینب و کلثوم
لگ جائو گلے تم سے بچھڑتا ہے یہ مظلوم
اب جاتے ہی خنجر سے کٹے گا میرا یہ حلقوم
ہے صبر کا اماں کے طریقہ تمہیں معلوم
مجبور ہیں ناچار ہیں مرضی خدا سے
بھائی تو نہیں جی اٹھنے کا فریاد وبکاء سے
جس وقت مجھے ذبح کرے فرقہ ناری
رونا نہ آئے نہ آواز تمہاری
بے صبروں کا شیوہ ہے بہت گریہ و زاری
جو کرتے ہیں صبر ان کی خدا کرتا ہے یاری
ہو لاکھ ستم رکھیو نظر اپنے خدا پر
اس ظلم کا انصاف ہے اب روز جزاء پر
قبر میں ماتمی کا انجام کیا ہوگا؟
قبر میں ماتمی کا منہ قبلہ کی سمت سے پھیر دیا جائے گا:
ایک روایت میں ہے رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کہ سات آدمیوں کا قبر میں منہ قبلہ کی طرف سے پھیر دیا جاتا ہے۔
(۱) شراب بیچنے والا
(۲) شراب لگاتار پینے والا
(۳) ناحق گواہی دینے والا
(۴) جوا باز
(۵) سود خور
(۶) والدین کا نافرمان
(۷) ماتم کرنے والا (شیعہ کی معتبر کتاب، مجمع المعارف حاشیہ برحلیۃ المتقین ص 168، درحرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)
گانا گانے والے اور مرثیہ خواں کو قبر سے
اندھا اور گونگا کرکے اٹھایا جائے گا
رسول اﷲﷺ سے منقول ہے کہ غنا کرنے والا اور مرثیہ خواں کو قبر سے زانی کی طرح اندھا اور گونگا کرکے اٹھایا جائے گا۔ اور کوئی گانے والا جب مرثیہ خوانی کے لئے آواز بلند کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ دو شیطان اس کی طرف بھیج دیتا ہے جو اس کے کندھے پر سوار ہوجاتے ہیں۔ وہ دونوں اپنے پائوں کی ایڑھیاں اس کی چھاتی اور پشت پر اس وقت تک مارتے رہتے ہیں۔ جب تک وہ نوحہ خوانی ترک نہ کرے (شیعہ کی معتبر کتاب: مجمع المعارف حاشیہ برحلیۃ المتقین ص 163، درحرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)
حضورﷺ نے فرمایا: میں نے ایک عورت کتے کی شکل میں دیکھی۔ کہ فرشتے اس کی دبر (پاخانے کی جگہ) سے آگ داخل کرتے ہیں اور منہ سے آگ باہر آجاتی ہے۔ اور فرشتے گرزوں کے ساتھ اس کے سر اور بدن کو مارتے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے پوچھا۔ میرے بزرگوار ابا جان مجھے بتلایئے کہ ان عورتوں کا دنیا میں کیا عمل اور عادت تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر اس قسم کا عذاب مسلط کردیا ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا: کہ وہ عورت جو کتے کی شکل میں تھی اور فرشتے اس کی دبر میں آگ جھونک رہے تھے۔ وہ مرثیہ خواں، نوحہ کرنے والی اور حسد کرنے والی تھی (شیعہ کی معتبر کتاب، حیات القلوب جلد 2، ص 543، باب بست و چہارم در معراج آنحضرت، عیون اخبار الرضا جلد 2، ص 11، انوار نعمانیہ جلد 1، ص 216)
کیا ماتم سننے کی بھی ممانعت ہے؟
نہ صرف ماتم کرنے بلکہ سننے کی بھی ممانعت ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ
لعن رسول اﷲﷺ النائحۃ والمستمعۃ
رسول اﷲﷺ نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت فرمائی (ابو دائود حدیث 3128، مشکوٰۃ حدیث 732، کتاب الجنائز باب البکائ)
کیونکہ اکثر عورتیں ہی نوحہ کرتی ہیں اس لئے مونث کا صیغہ استعمال فرمایا تو جو مرد ہوکر نوحہ کرے تو وہ مرد نہیں زنانہ ہے۔
شیعہ حضرات کے شیخ صدوق نقل کرتے ہیں۔
نہی رسول اﷲ عن الرنۃ عند المصیبۃ ونہی عن النیاحۃ والاستماع الیہا
رسول اﷲﷺ نے بوقت مصیبت بلند آواز سے چلانے، نوحہ و ماتم کرنے اور سننے سے منع فرمایا (من لایحضرہ الفقیہ ج 4، ص 3)
ایک شبہ:
فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت دی۔
آپ کی بیوی چلانے لگیں، پس اپنا منہ پیٹ لیا (شیعہ ترجمہ) معلوم ہوا کہ ماتم کرنا حضرت سارہ کی سنت ہے۔
جواب: کوئی شیعہ اس آیت سے حضرت سارہ کا ماتم کے لئے پیٹنا ہرگز ثابت نہیں کرسکتا کیونکہ قدیم ترین شیعہ مفسر علامہ قمی کے مطابق مصکت پیٹنے کے معنی میں نہیں ہے۔ غطت ڈھانپنے کے معنی میں ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت سارہ عورتوں کی جماعت میں آئیں اور حیا سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا کیونکہ جبریل علیہ السلام نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی (تفسیر قمی ج 2، ص 330)
اگر اب بھی تسلی نہ ہوئی تو شیعہ صاحبان کو چاہئے کہ ماتم شہداء کی بجائے بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری سن کر کرنا چاہئے تاکہ اپنے خیال کے مطابق سنت سارہ پر عمل پیرا ہوسکیں۔
اہل بیت کرام نے رسول اﷲﷺ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔
نہ خود ماتم کیا اور نہ کرنے کا حکم دیا اور ہم محب اہل بیت ہیں اور ان کے قول و فعل کو اپناتے ہوئے صبر کا اظہار کرتے ہیں اور جو رسول اﷲﷺ اور ائمہ کرام کے فرمان کو نہ مانے اور بے صبری کا مظاہرہ کرے وہ محب اہل بیت نہیں ہوسکتا۔
عشرہ محرم میں سیاہ لباس پہننا اور مہندی، پنجہ، گھوڑا
اور تعزیہ نکالنے کا کیا حکم ہے
مہندی، پنجہ، گھوڑا ار تعزیہ نکالنا یزیدیوں کے کرتوتوں کی نقل ہے
کہا جاتا ہے کہ کربلا میں قاسم بن حسن رضی اﷲ عنہ کی شادی ہوئی تو حضرت قاسم نے مہندی لگائی مروجہ رسم مہندی نکالنے کی اسی کی نقل ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت مخفی نہیں کہ کربلا کا معرکہ خونی شادی کا موقع ہرگز نہ ہوسکتا تھا۔
نیز مہندی پانی میں ملا کر لگائی جاتی ہے اور اہل بیت کے لئے تو پانی بند تھا۔ یونہی پنجہ و گھوڑا نکالنا اور مروجہ تعزیہ بنانا یہ سب بدعت باطلہ اور انصاب میں داخل ہیں۔
ائمہ اہل بیت سے ان چیزوں کی قطعا کوئی سند نہیں ملتی۔ فی الحقیقت یزیدیوں نے صرف ایک دفعہ اہل بیت پر مظالم ڈھا کر کوفہ و دمشق کے بازاروں میں گھمایا تھا لیکن یہ لوگ ہر سال یزیدیوں کے کرتوتوں کی نقل بناکے گلی کوچوں میں گھماتے پھرتے ہیں۔ پھر اس پر دعوت محبت بھی۔ اﷲ ہدایت دے۔
عشرہ محرم میں سیاہ لباس پہننا ممنوع ہے
مذہب مہذب اہل سنت و جماعت میں علی العموم سیاہ لباس پہننا محض مباح ہے۔ نہ تو اس پر کسی قسم کا ثواب مرتب ہوتا ہے، نہ گناہ۔ البتہ ماتم کی غرض سے سیاہ کپڑے پہننا شرعا ضرور ممنوع ہے۔
شیعہ اثناء عشریہ کے مذہب میں ماتم کا موقع ہو یا نہ، ہر حال میں سیاہ لباس سخت گناہ و ممنوع و حرام ہے۔
پھر اسے ثواب جاننا بالکل الٹی گنگا بہانا اور شیعہ مذہب کے مطابق ڈبل گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ چنانچہ شیعہ لٹریچر کی انتہائی مستند کتب سے دلائل ملاحظہ ہوں۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا
میرے دشمنوں کا لباس مت پہنو اور میرے دشمنوں کے کھانے مت کھائو اور میرے دشمنوں کی راہوں پر مت چلو، کیونکہ پھر تم بھی میرے دشمن بن جائو گے جیسا کہ وہ میرے دشمن ہیں۔ اس کتاب کا مصنف (شیخ صدوق شیعی) کہتا ہے کہ رسول اﷲﷺ کے دشمنوں کا لباس، سیاہ لباس ہے۔
(عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق باب 30، الاخبار المنشور حدیث 51)
شیعہ حضرات کے یہی صدوق رقم طراز ہیں:
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
لا تلبسوا السواد فانہ لباس فرعون
سیاہ لباس نہ پہنا کرو کیونکہ سیاہ لباس فرعون کا لباس ہے۔ (من لایحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق باب یصلی فیہ من الثیلب حدیث 17)
مشہور شیعہ محدث جعفر محمد بن یعقوب کلینی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق نے فرمایا۔
انہ لباس اہل النار
بے شک وہ (سیاہ لباس) جہنمیوں کا لباس ہے (الکافی کلینی کتاب الزی والتجمیل باب لباس السواد)
شیعوں کے مشہور محدث شیخ صدوق لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق سے سیاہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا:
لاتصل فیہا فانہا لباس اہل النار
سیاہ ٹوپی میں نماز مت پڑھو بے شک وہ (سیاہ لباس) جہنمیوں کا لباس ہے۔ (من لایحضرہ الفقیہ باب ما یصلی فیہ حدیث 19765، حلیۃ المتقین ملا باقر مجلسی باب اول در لباس پوشیدن فصل چہارم در بیان رنگہائے)
کربلا جانے والے اہل بیت کی تعداد کیا تھی؟
حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے (۱) علی اوسط امام زین العابدین (۲) علی اکبر (۳) علی اصغر رضی اﷲ عنہم اور ایک بیٹی حصرت سکینہ جن کی عمر سات سال تھی۔ دو بیویاں بھی ہمراہ تھیں حضرت شہربانو اور علی اصغر کی والدہ
حضرت امام حسن کے چار صاحبزادے (۱) حضرت قاسم (۲) حضرت عبداﷲ (۳) حضرت ابوبکر (۴) حضرت عمر رضی اﷲ عنہم کربلا میں شہید ہوئے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے پانچ (۱) حضرت عباس (۲) حضرت عثمان (۳) حضرت عبداﷲ (۴) حضرت جعفر (۵) حضرت محمد اصغر (ابوبکر) رضی اﷲ عنہم
حضرت علی کی کل اولاد (۲۷) ہیں، ان میں سے پانچ کربلا میں شہید ہوئے ۔
(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ 440/1)
حضرت عقیل کے (۴) فرزندوں سے حضرت امام مسلم پہلے ہی شہید ہوچکے تھے اور تین کربلا میں شہید ہوئے (۲) حضرت عبداﷲ (۳) حضرت عبدالرحمن (۴) حضرت جعفر رضی اﷲ عنہم
حضرت زینب امام حسین کی بہن کے دو بیٹے عون اور محمد رضی اﷲ عنہم
ان کے والد کا نام حضرت عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ عنہ کربلا میں شہید ہوئے۔
اہل بیت کرام میں سے کل سترہ افراد آپ کی ساتھ کربلا میں شہید ہوئے (سوانح کربلا، طبری خطبات محرم جلال الدین امجدی، ص 378)
شیعہ نہ اہل بیت کو مانتے ہیں اور نہ شہداء کربلا کو، حضرت امام حسن کے صرف ایک بیٹے حضرت قاسم کا نام لیتے ہیں۔ حضرت عبداﷲ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہم تین کا نام نہیں لیتے۔
اگر وہ شہداء کربلا کا نام لے لیں تو ان کا عقیدہ ختم ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کا صحابہ کرام سے پیار تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنی اولاد کے نام خلفائے راشدین کے نام پر رکھے۔ اہل سنت چاروں کا نام لیتے تو حقیقت میں شہداء کربلا کو ماننے والے سنی ہیں، شیعہ ان کے منکر ہیں۔
شیعہ حضرت علی کی اولاد کے بھی منکر ہیں۔ پانچ شہداء کربلا میں صرف ایک کا نام لیتے ہیں۔ حضرت عباس کا، ان کا علم بھی لگاتے ہیں، باقی چار کا نام تک نہیں لیتے حالانکہ حضرت عباس کے حضرت عثمان، حضرت عبداﷲ اور حضرت جعفر کے سگے بھائی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام البنین بنت حرام ہے اور حضرت محمد اصغر (ابوبکر) بن علی کا نام بھی نہیں لیتے ان کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود تھا تو شہداء کربلا اور اہل بیت کا منکر کون اور محب کون؟
شیعہ حضرت امام حسین کی اولاد کو امام مانتے ہیں جو کربلا میں شہید بھی نہیں ہوئے اور آپ کے سگے بھائی حضرت امام حسن کی اولاد کو امام نہیں مانتے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔ کتنی ناانصافی ہے اور حضرت علی کی اولاد کو بھی امام نہیں مانتے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔
اہل بیت کی تین قسمیں ہیں (۱) اہل بیت سکونت یعنی ازواج (۲) اہل بیت ولادت (۳) اہل بیت نسب پہلی قسم اہل بیت سکونت یعنی (۱۱) ازواج میں سے صرف ایک زوجہ حضرت خدیجہ کو مانتے ہیں۔ باقی سب کا انکار کرتے ہیں بلکہ ان کو گالیاں دیتے ہیں حالانکہ قرآن نے ان کو اہل بیت اور مومنوں کی ماں فرمایا ہے۔ اہل سنت سب کو مانتے ہیں۔
دوسری قسم اہل بیت ولادت چار بیٹیوں میں سے صرف ایک بیٹی کو مانتے ہیں لہذا اہل بیت کے منکر ہوئے بلکہ یہ حضرت علی کی بیویوں کے بھی منکر ہیں۔ حضرت علی کی ایک بیوی کا نام امامہ تھا۔
یہ نبی کریم ﷺ کی نواسی تھیں۔ حضرت زینب کی بیٹی اگر نبی کریمﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ حضرت فاطمہ تو پھر حضرت علی کی بیوی حضرت امامہ بنت زینب بنت رسول اﷲ کہاں سے آگئیں۔ معلوم ہوا کہ اہل سنت ہی اہل بیت اور شہداء کربلا کے محب ہیں ۔
اہل بیت کے سچے محب کون ہیں؟
اہل بیت کے سچے محب سنی ہیں، شیعہ منکر اہل بیت ہیں کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کی چاربیٹیوں میں سے ایک کو اور تمام زواج میں سے صرف ایک زوجہ کو مانتے ہیں۔ اس لئے یہ منکر اہل بیت ہیں نیزاس واقعہ سے بھی اہل سنت کی حقانیت واضح ہے۔